پیرس: ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کے مطابق فرانس میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور زندگی کی لاگت میں بے تحاشا اضافے کے خلاف دارالحکومت پیرس سمیت مختلف شہروں میں ملک گیر احتجاجی لہر شدت اختیار کر گئی ہے۔ حالات کی نزاقت اور ممکنہ پرتشدد تصادم کو روکنے کے لیے فرانسیسی حکومت نے دارالحکومت اور دیگر حساس علاقوں میں 70 ہزار سے زائد پولیس اہلکار اور امن و امان برقرار رکھنے والے اداروں کے اہلکاروں کو تعینات کر دیا ہے۔
مہنگائی کا طوفان اور عوامی غضب:
فرانس میں گزشتہ چند ماہ کے دوران بجلی، گیس، پیٹرولیم مصنوعات اور روزمرہ کی خوراک کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس نے عام شہریوں کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ مزدور یونینز، سول سوسائٹی اور طلبہ تنظیموں کی مشترکہ کال پر نکلنے والے اس احتجاج میں لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ تنخواہوں میں کوئی خاطر خواہ اضافہ نہیں کیا گیا، جبکہ دوسری جانب افراطِ زر (Inflation) کی شرح تاریخی سطح پر پہنچ چکی ہے۔ پیرس کی گلیوں میں مظاہرین بینرز اور پلے کارڈز اٹھائے حکومت مخالف نعرےے بازی کر رہے ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ ہنگامی بنیادوں پر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر کنٹرول قائم کیا جائے اور کم سے کم اجرت میں فوری اضافہ کیا جائے۔
70 ہزار پولیس اہلکاروں کی تعیناتی اور سیکیورٹی حکمتِ عملی:
فرانسیسی وزارتِ داخلہ اور سیکیورٹی اداروں کے مشترکہ اجلاس کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ پولیس اور جینڈرمیری (Gendarmerie) کی مدد کے لیے ملک بھر میں 70 ہزار پولیس اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔ دارالحکومت پیرس، مارسیل، لِیون اور دیگر بڑے شہروں میں اہم ترین سرکاری عمارتوں، پارلیمنٹ، سپریم کورٹ، ریلوے اسٹیشنز اور ہوائی اڈوں کے باہر فوجیوں کی بھاری نفری پہنچا دی گئی ہے۔
حکام نے کئی حساس علاقوں میں رکاوٹیں کھڑی کر کے راستے بند کر دیے ہیں، جبکہ فضا سے نگرانی کے لیے ڈرونز اور ہیلی کاپٹرز کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ فرانسیسی وزیر داخلہ نے اپنے ایک پریس ریلیز میں کہا ہے کہ حکومت کو پرامن احتجاج پر کوئی اعتراض نہیں، لیکن اگر کسی بھی گروہ نے عوامی یا نجی املاک کو نقصان پہنچانے یا قانون کو ہاتھ میں لینے کی کوشش کی تو 70 ہزار پر مشتمل یہ سیکیورٹی فورسز کسی بھی قسم کی سختی سے گریز نہیں کریں گی۔
پیرس کی سڑکوں پر تناؤ اور پرتشدد واقعات کا خدشہ:
اگرچہ پیرس میں مظاہرین کی ریلی فی الحال نسبتاً پرامن انداز میں شروع ہوئی ہے، تاہم ماضی کے “یلو ویسٹ” (Yellow Vest) مظاہروں کی تاریخ کو مدنظر رکھتے ہوئے شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ ماضی میں بھی مہنگائی کے خلاف شروع ہونے والے مظاہرے جللاؤ گھیراؤ اور شدید جھڑپوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔
مظاہرین کے بعض شدید پسند گروہوں کی جانب سے رکاوٹیں جلانے اور سیکیورٹی فورسز پر پتھراؤ کے خدشات کے پیش نظر پولیس نے آنسو گیس کے شیل اور واٹر کینن سے لیس گاڑیاں بھی تیار رکھی ہیں۔ شہر کی اہم تجارتی سڑکوں پر موجود دکانوں، بینکوں اور ہوٹلوں کی انتظامیہ نے حفاظتی تدابیر کے طور پر اپنے شیشے کے دروازوں کو لکڑی کے تختوں سے ڈھانپنا شروع کر دیا ہے تاکہ توڑ پھوڑ سے بچا جا سکے۔
تجارتی اور سياحتی سرگرمیوں پر منفی اثرات:
اس بڑے احتجاج اور 70 ہزار پولیس اہلکاروں کی موجودگی نے فرانسیسی معیشت اور سیاحت کے شعبے کو سخت متأثر کیا ہے۔ پیرس، جو کہ دنیا بھر کے سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے، اس وقت ایک فوجی چھاؤنی کا منظر پیش کر رہا ہے۔ شہر کی مشہور شاہراہوں پر ٹریفک کی روانی مکمل طور پر معطل ہو چکی ہے، جبکہ میٹرو ٹرین سروس کے متعدد اسٹیشنز کو حفاظتی نقطہ نظر سے بند کر دیا گیا ہے۔
سیاحتی اداروں کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کے باعث ہزاروں غیر ملکی سیاحوں نے اپنی فلائٹس اور ہوٹل بائکنگز منسوخ کر دی ہیں، جس سے معیشت کو اربوں یوروز کا نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ فرانس سے منسلک بین الاقوامی سپلائی چین اور ریلوے نیٹ ورک بھی عارضی طور پر متأثر ہوا ہے۔
حکومت کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش اور سیاسی تعطل:
دوسری جانب فرانسیسی صدر اور وزیراعظم پر حزبِ اختلاف اور عوامی حلقوں کی طرف سے دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ 70 ہزارپولیس اہلکار تعینات کرنا مسئلے کا حل نہیں ہے، بلکہ حکومت کو فوراً عوام کی معاشی مشکلات کا تدارک کرنا چاہیے۔
حکومتی ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ وہ مزدور یونینز کے رہنماؤں کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں تاکہ کسی متفقہ حل پر پہنچا جا سکے، لیکن اپوزیشن اور یونینز کا کہنا ہے کہ جب تک قیمتیں کم کرنے کے عملی اقدامات کا اعلان نہیں کیا جاتا، یہ احتجاج اور مظاہرے ملک بھر میں جاری رہیں گے۔ عالمی برادری اور یورپی یونین کے دیگر ممالک بھی فرانس کے ان معاشی بحرانوں اور ابھرتی ہوئی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔









