مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے سربراہ فاروق عبداللہ نے بارہ مولہ میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ہر موقع پر کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہے اور بین الاقوامی سطح پر مسئلہ کشمیر اٹھا کر ان کی حفاظت کر رہا ہے۔ ان کے اس بیان پر بھارتی سیاسی حلقوں بالخصوص حکمران جماعت بی جے پی کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے، جبکہ بی جے پی نے ان سے بھارتی عوام سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔
مقبوضہ کشمیر کے علاقے بارہ مولہ میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فاروق عبداللہ کا کہنا تھا کہ کیا آپ لوگوں کو دہلی حکومت سے یہ امید ہے کہ آپ کو انصاف دے گی؟ ان کا کہنا تھا کہ کشمیریوں کو اپنے حقوق کے لیے متحد ہونا ہوگا، آپ میں ان کا مقابلہ کرنے اور ان کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہونے کی ہمت ہونی چاہیے، اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ کا وجود مٹ جائے گا، آپ کا نام و نشان اور شناخت ختم ہو جائے گی اور کوئی آپ کو یاد تک نہیں رکھے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا پڑوسی ملک مسلسل اس معاملے کے پیچھے پڑا ہوا ہے، وہ ہر جگہ جا کر کہتا ہے کہ مسئلہ کشمیر ابھی تک حل نہیں ہوا، وہ ہماری حفاظت کر رہا ہے، ورنہ بھارت کے ارادے ٹھیک نہیں ہیں، وہ کہتے کچھ ہیں لیکن کرتے بالکل اس کے برعکس ہیں۔ نیشنل کانفرنس کے سربراہ کا کہنا تھا کہ آپ میں سچ کا ساتھ دینے اور اس پر ڈٹ جانے کا حوصلہ ہونا چاہیے، سچ بولنا آسان نہیں ہوتا لیکن جب تک آپ سچ نہیں بولیں گے اور اس پر مضبوطی سے قائم نہیں رہیں گے، آپ کا مستقبل کبھی محفوظ نہیں ہو سکتا۔
دوسری جانب فاروق عبداللہ کے اس بیان پر بی جے پی نے سخت ردعمل دیتے ہوئے ان سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بی جے پی کے صدر ست شرما نے فاروق عبداللہ سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارتی عوام سے معافی مانگیں کیونکہ یہ بیانات ناقابل قبول ہیں، اور اگر انہیں پاکستان سے اتنی ہی گہری محبت ہے تو انہیں پاکستان جا کر وہاں آباد ہو جانا چاہیے۔









