اسلام آباد: نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن (نیپا) اسلام آباد میں جاری 40ویں سینئر مینجمنٹ کورس کے 17 شرکاء پر مشتمل وفد نے فیلڈ ریسرچ اور پیشہ ورانہ تربیت کے سلسلے میں قومی احتساب بیورو (نیب) کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا۔ وفد کی قیادت شاہانہ بتول نے کی، جہاں چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد اور دیگر افسران نے شرکاء کا استقبال کیا۔
دورے کے دوران ڈائریکٹر جنرل آپریشنز نیب احمد مجید اولکھ نے وفد کو ادارے کے قیام، قانونی مینڈیٹ، عملی طریقۂ کار اور نمایاں کامیابیوں کے بارے میں بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ نیب نے 2026 کی تیسری سہ ماہی کے دوران 9.18 ٹریلین روپے کی ریکوری کی، جبکہ مارچ 2023 سے ستمبر 2026 تک مجموعی ریکوری 26.1 ٹریلین روپے رہی۔
انہوں نے پاکستان ریلوے اور صوبائی محکموں کی قیمتی سرکاری اراضی سمیت ریاستی اثاثوں کی واگزاری اور تیسری سہ ماہی کے دوران 4,280 متاثرین کو 908.42 ملین روپے کی ادائیگی کے ذریعے ریلیف فراہم کرنے کے اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔
ڈی جی آپریشنز نے بتایا کہ نیب میں ادارہ جاتی اصلاحات، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، تحقیقات میں تیزی، شکایات کے اندراج اور ان کے نمٹانے کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام ’’نیب آئی‘‘ (NAB EYE) اور پاکستان اینٹی کرپشن اکیڈمی (PACA) کے ذریعے افسران کی پیشہ ورانہ استعداد بڑھانے کی کوششوں پر بھی روشنی ڈالی۔
چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ مؤثر عوامی انتظامیہ کے لیے دیانت داری، پیشہ ورانہ مہارت، شفافیت اور جوابدہی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے افسران پر زور دیا کہ وہ اعلیٰ اخلاقی اقدار کو مقدم رکھتے ہوئے اپنی سرکاری ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ ادا کریں، کیونکہ مستقبل میں انہیں اہم انتظامی اور قائدانہ عہدوں پر فرائض انجام دینا ہوں گے۔
چیئرمین نیب نے وضاحت کی کہ ادارہ انفرادی شخصیات کے بجائے سرکاری شعبے کے منصوبوں میں بدعنوانی کے طریقۂ کار اور بدعنوان سرگرمیوں کو ہدف بناتا ہے، جبکہ ملزمان کی عزتِ نفس اور بنیادی انسانی حقوق کا احترام بھی یقینی بنایا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سرکاری ملازمین کو بلاخوف و خطر دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں فرائض ادا کرنے کے قابل بنانے کے لیے نیب میں اکاؤنٹیبلٹی فیسلیٹیشن سیلز قائم کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سرکاری افسران کا کردار اداروں کو مضبوط بنانے، مفادِ عامہ کے تحفظ اور عوام کو مؤثر خدمات کی فراہمی میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
دورے کے اختتام پر وفد کے شرکاء نے نیب کی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بریفنگ کو معلوماتی اور پیشہ ورانہ تربیت کے لیے مفید قرار دیا۔
مزید پڑھیں:مجرم کتنا ہی طاقتور اور پیسے والا کیوں نہ ہو قانون کے ہاتھ اسکے گریبان تک پہنچیں گے، مریم نواز
شرکاء کے مطابق اس دورے سے انہیں نیب کے قانونی مینڈیٹ، عملی طریقۂ کار، ادارہ جاتی اصلاحات، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، ریاستی اثاثوں کی واگزاری اور متاثرین کو ریلیف کی فراہمی سے متعلق براہِ راست آگاہی حاصل ہوئی۔









