ٹیکنالوجی کی دنیا میں تہلکہ مچانے والی نامور امریکی کمپنی ایپل نے اپنے حال ہی میں متعارف کرائے گئے جدید اور منفرد ڈبل اسکرین فون آئی فون ڈیو (iPhone Duo) کے اندرونی ڈسپلے میں دراڑیں اور اچانک خرابی پیدا ہونے کے مسلسل بڑھتے ہوئے واقعات پر اپنا باضابطہ اور اہم بیان جاری کر دیا ہے۔ ایپل کے سرکاری ترجمان کی جانب سے جاری کردہ وضاحت کے مطابق، صارفین اور ٹیک مارکیٹ کی طرف سے اس ڈیوائس کا ابتدائی ردعمل انتہائی شاندار اور مثبت رہا ہے، جبکہ دنیا بھر کے ایپلیکیشن ڈولپرز بھی اس کے نایاب اور منفرد فارم فیکٹر کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی ایپس کو تیزی سے اپ ڈیٹ کر رہے ہیں۔ تاہم، کمپنی نے اس بات کا باضابطہ اعتراف کیا ہے کہ وہ آئی فون ڈیو کے ایک محدود حصے یا مخصوص یونٹس میں اندرونی ڈسپلے کی خرابی کے مسئلے سے مکمل طور پر آگاہ ہے۔ ایپل نے اپنے تمام متاثرہ صارفین کو واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ اگر ان کے ہینڈ سیٹ میں ڈسپلے کا کوئی بھی مسئلہ پیش آ رہا ہے تو وہ بغیر کسی تاخیر کے فوری طور پر AppleCare سروس سے رابطہ کر کے متبادل ڈیوائس کا کلیم حاصل کریں۔
سوشل میڈیا پر صارفین کے تحفظات اور ہنج کی خرابی:
ٹیکنالوجی پورٹل جی ایس ایم آرینا کی رپورٹس کے مطابق، گزشتہ کچھ دنوں سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، ایوی ایشن ٹیک فورمز اور ڈسکشن بورڈز پر آئی فون ڈیو کے خریداران کی جانب سے اسکرین خراب ہونے کی شکایتیں تیزی سے وائرل ہو رہی تھیں۔ متعدد خریداروں نے تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرتے ہوئے شکایت کی کہ نئے فون کا اندرونی ڈسپلے استعمال کے ابتدائی دنوں میں ہی بری طرح متاثر یا کریک ہو گیا ہے۔
صارفین کے مطابق جب انہوں نے فون کو پہلی بار یا معمول کے مطابق کھولنے کی کوشش کی تو انہیں فون کے بنیادی جوڑ یعنی ہنج (Hinge) میں ایک عجیب اور غیر معمولی قسم کی رکاوٹ یا سخت مزاحمت محسوس ہوئی۔ اس مزاحمت کے فوراً بعد ہنج کے اندرونی حصے سے ایک سنسنی خیز ’پاپنگ‘ (Popping) یعنی پٹاخے جیسی آواز سنائی دی اور اگلے ہی لمحے فون کی مہنگی اور نازک اندرونی اسکرین مکمل طور پر ناکارہ یا ڈیمیج ہو گئی۔ ٹیک ماہرین کی ابتدائی رپورٹوں میں بھی اس پیچیدہ ہنج ڈیزائن پر خدشات کا اظہار کیا گیا تھا، جس کی اب درجنوں صارفین کے عملی تجربات سے تصدیق ہو رہی ہے۔
ایپل کا درعمل، ماہرین کا تجزیہ اور آئندہ کا لائحہ عمل:
حسبِ روایت، ایپل نے اپنے اس باضابطہ بیان میں اس بات کی کوئی تکنیکی وضاحت یا تفصیل فراہم نہیں کی کہ اسکرین کے اچانک کریک ہونے یا ہنج میں پیدا ہونے والی اس رکاوٹ کی اصل بنیادی وجہ کیا ہے۔ ٹیکنالوجی انڈسٹری میں ایپل کی یہ دیرینہ حکمتِ عملی رہی ہے کہ وہ کسی بھی پروڈکٹ کی تکنیکی خامیاں اعلانیہ طور پر بیان کرنے سے گریز کرتا ہے۔ تاہم، کمپنی نے یہ دعویٰ ضرور کیا ہے کہ اس مسئلے نے آئی فون ڈیو کی کل فروخت کے مقابلے میں محض ایک انتہائی محدود تعداد (Small number of units) کو متاثر کیا ہے۔ عالمی سطح پر اس ڈیوائس کی ہونے والی بمپر سیلز کو مدنظر رکھا جائے تو کمپنی کا یہ موقف کافی حد تک منطقی اور قابلِ قبول معلوم ہوتا ہے۔
ٹیک ماہرین اور جی ایس ایم آرینا کی ٹیم نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ اگر انہوں نے یہ فون خریدا ہے اور انہیں ہنج کھولنے میں ذرا سی بھی سختی محسوس ہو، تو وہ خود سے زور لگانے کی بالکل کوشش نہ کریں۔ اس کے بجائے، کمپنی کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے جلد از جلد AppleCare کے نمائندوں سے رجوع کریں تاکہ جیسے ہی نیا اور محفوظ اسٹاک دستیاب ہو، وہ اپنی خراب ڈیوائس کے بدلے بالکل نیا آئی فون ڈیو مفت حاصل کر سکیں۔









