لاس اینجلس: جنوبی کیلیفورنیا کے ساحلی علاقوں میں بے مثال اور غیر معمولی سیلابی صورتِ حال اب مقامی آبادی کے لیے ایک تلخ حقیقت بنتی جا رہی ہے۔ پیر کی صبح آنے والے شدید مدوجزر (High Tide) کی وجہ سے سمندری پانی نیوپورٹ بیچ کے اہم تجارتی اور کاروباری اضلاع میں تیزی سے داخل ہو گیا، جبکہ سن سیٹ بیچ میں پسیفک کوسٹ ہائی وے کا ایک بڑا حصہ جل تھل ہو کر زیرِ آب آ گیا۔ ساحلی دفاعی اداروں کے مطابق سین پیڈرو کے مقام پر سمندری پانی کی سطح 8 فٹ سے تجاوز کر گئی ہے، جو کہ ملکی تاریخ میں اب تک کی سب سے بلند ترین سطح (All-time Record High) ہے۔ موسمیاتی ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ منگل کے روز حالات مزید سنگین اور تشویشناک ہونے کی توقع ہے۔
پیر کو آنے والے اونچے مدوجزر نے جہاں کاروباری زندگی اور معمولاتِ زندگی کو بری طرح فالج زدہ کر کے رکھ دیا ہے، وہاں اہم ترین شاہراہیں بھی پانی میں ڈوب چکی ہیں۔ پسیفک کوسٹ ہائی وے پر پانی کا بہاؤ اتنا تیز تھا کہ گاڑیوں کی آمدورفت کو عارضی طور پر روکنا پڑا۔
نیوپورٹ بیچ اور اس کے گردونواح کے علاقوں میں مقامی انتظامیہ اور ایمرجنسی سروسز نے ریت کی بوریوں (Sandbags) کی مدد سے سمندری پانی کو آبادیوں میں مزید پھیلنے سے روکنے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ تاہم، سمندر کے انتہائی بلند ترین درجے اور تیز لہروں نے ان دفاعی اقدامات کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جس کی وجہ سے متعدد دکانوں اور کمرشل عمارتوں کے اندر تک پانی بھر گیا۔
عوام اور ماحولیاتی ماہرین اس اچانک اور تباہ کن سیلابی صورتِ حال پر شدید تشویش کا اظہار کر رہے ہیں، کیونکہ جنوبی کیلیفورنیا اس سے قبل بھی ‘ایل نینو’ (El Niño) جیسے موسمیاتی مظاہر اور انتہائی اونچی لہروں کا سامنا کرتا رہا ہے۔
تاہم، اس بار پانی کا اتنی زیادہ بلندی پر پہنچنا اور ساحلی علاقوں میں اتنی تیزی سے داخل ہونا ایک غیر معمولی واقعہ مانا جا رہا ہے۔ ماہرینِ موسمیات کا کہنا ہے کہ یہ سنگین صورتِ حال صرف روایتی ایل نینو کے باعث نہیں ہے، بلکہ عالمی سطح پر سمندر کی سطح میں مسلسل اضافے، زمینی کٹاؤ اور بدلتے ہوئے موسمی پیٹرنز کا نچوڑ ہے جس نے سمندری لہروں کے اثرات کو ماضی کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ شدید اور تباہ کن بنا دیا ہے۔
ساحلی شہروں نیوپورٹ بیچ اور سن سیٹ بیچ کے مقامی دکانداروں اور رہائشیوں کو اس ناگہانی آفت کی وجہ سے لاکھوں ڈالر کے مالی نقصان کا خدشہ لاحق ہو گیا ہے۔ کئی ریسٹورنٹس، بوٹیک اور شاپنگ مراکز کی نچلی منزلوں پر کئی کئی انچ پانی جمع ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے بجلی اور مواصلات کا نظام بھی متاثر ہوا ہے۔
مقامی کاروباری تنظیموں کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ پانی کی اتنی تیز اور اچانک آمد کی وجہ سے بیشتر تاجروں کو اپنی دکانوں سے قیمتی سامان اور برقی آلات منتقل کرنے کا وقت بھی نہیں مل سکا۔ صفائی کے عملے اور ہنگامی امدادی ٹیموں کو پانی کی نکاسی کے لیے بلڈوزر اور بڑے واٹر پمپ استعمال کرنا پڑ رہے ہیں، لیکن سمندری لہروں کے مسلسل اضافے کے باعث ان امدادی کاموں میں بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ کیلیفورنیا کی تاریخی ساحلی شاہراہ ‘پسیفک کوسٹ ہائی وے کی مسلسل زیرِ آب آمد اس بات کا ثبوت ہے کہ خطے کا موجودہ انفراسٹرکچر سمندر کی بڑھتی ہوئی سطح کا مقابلہ کرنے میں ناکام ثابت ہو رہا ہے۔ سمندری پانی کی مسلسل ضربوں سے نہ صرف سڑکیں اور پل کمزور ہو رہے ہیں بلکہ ساحلی زمین کی کٹائی (Coastal Erosion) میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
اگر یہی صورتِ حال برقرار رہی تو کیلیفورنیا کی ریاست کو آئندہ چند برسوں میں اپنی اہم شاہراہوں کے روٹ تبدیل کرنے اور کروڑوں ڈالر کی لاگت سے نئے حفاظتی بند (Sea Walls) تعمیر کرنے پڑیں گے۔ خطے کے پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ نے تسلیم کیا ہے کہ موجودہ ڈرینج سسٹمز طوفانی لہروں کا بوجھ برداشت کرنے کے قابل نہیں رہے اور ان کی فوری اپ گریڈنگ ضروری ہو چکی ہے۔
ریاستی گورنر کے دفتر اور محکمہ ایمرجنسی سروسز نے حالات کا بغور جائزہ لیتے ہوئے متاثرہ تمام ساحلی اضلاع میں ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ فائر فائٹرز، کوسٹ گارڈز اور ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز کے اہلکاروں کی چھٹیاں منسوخ کر کے انہیں الرٹ پر رکھ دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی انخلاء (Evacuation) کی صورت میں فوری رسپانس دیا جا سکے۔
حکام نے ساحلی علاقوں میں رہنے والے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ موسمیاتی الرٹس پر مسلسل نظر رکھیں اور سمندر کے کنارے سیر و تفریح یا شائقین کے طور پر اونچی لہریں دیکھنے کے لیے گراؤنڈ پر جانے سے مکمل گریز کریں۔ انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ منگل کو سمندر کی سطح میں متوقع اضافے کے پیشِ نظر کچھ خطرناک علاقوں کو عارضی طور پر سیل بھی کیا جا سکتا ہے۔









