لاہور : پاکستانی معاشرے میں طلاق(Divorce) کے واقعات میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے، 1970 میں اس کی شرح 13فیصد تھی جو اب 30 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔
نکاح اس لئے نہیں کیا جاتا کہ طلاق دے کر اس کو ختم کردیا جائے، کامیاب زندگی کیلیے فریقین کو برداشت اور حوصلے سے ایک دوسرے کو قبول کرنا پڑتا ہے، قانونی ماہرین کی جانب سے گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران عدالتوں میں ایک لاکھ 75 ہزار سے زائد کیسز کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
اے آّر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے قانونی ماہرین نے کہا کہ معاشرے میں برداشت کا مادہ کم ہونے، میاں بیوی کے درمیان اختلافات کے بڑھنے اور گھریلو و معاشی دباؤ سمیت مختلف عوامل کے باعث ازدواجی تنازعات میں اضافہ ہورہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران ملک میں تقریباً ایک لاکھ 75 ہزار طلاقیں ہوئیں، جن میں ان کے مطابق 70 فیصد خلع جبکہ 30 فیصد طلاق کے معاملات شامل ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یونین کونسل کی سطح پر ہونے والے مفاہمتی عمل کے دوران صرف 883 کیسز میں صلح ہوسکی جو مجموعی تعداد کے مقابلے میں ایک فیصد سے بھی کم بنتی ہے۔
مزیدپڑھیں:پلک تیواری کا بریک اپ ہوگیا
قانونی ماہر کے مطابق طلاق کا رجحان نیا نہیں تاہم اب یہ اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ اس کے اعداد و شمار نمایاں طور پر سامنے آرہے ہیں۔ تاہم باہمی رضامندی سے ہونے والی بعض علیحدگیاں رپورٹ نہیں ہوتیں۔
انہوں نے کہا کہ شادی کے ابتدائی ایک، دو یا تین برس میں مالی معاملات، خواتین کا ملازمت یا مزید تعلیم جاری رکھنے کا مسئلہ، مشترکہ خاندانی نظام میں رہنے یا الگ گھر کا مطالبہ اور طرز زندگی سے متعلق اختلافات ایسے عوامل میں شامل ہیں جنہیں ازدواجی تنازعات کی وجوہات کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔
قانونی ماہر نے کہا کہ بعض طویل عرصے سے شادی شدہ جوڑوں میں بھی وقت گزرنے کے ساتھ ایک دوسرے کو برداشت کرنے کی صلاحیت کم ہوجاتی ہے، جس کے نتیجے میں اختلافات سنگین صورت اختیار کرسکتے ہیں۔
گفتگو کے دوران لاہور شہر میں طلاق اور خلع کے کیسز کے حوالے سے بھی بتایا گیا کہ 10 ماہ کے دوران 10 ہزار سے زائد طلاق اور خلع کے فیصلے سامنے آئے ہیں، تاہم اس مخصوص تعداد کی تفصیلی سرکاری تفصیل پروگرام میں پیش نہیں کی گئی۔
قانونی ماہر نے طلاق کے بڑھتے رجحان کے اثرات صرف میاں بیوی تک محدود نہ رہنے کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ والدین کے تنازعات میں سب سے زیادہ متاثر بچے ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میاں بیوی کے درمیان اختلافات کو فوری طور پر عدالت تک لے جانے کے بجائے پہلے باہمی گفتگو اور افہام و تفہیم کے ذریعے حل کرنے کی کوشش ہونی چاہیے۔









