بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد کی لیبلنگ لازمی قرار دینا ہوگی، عطاء اللہ تارڑ

اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ(Ata Tarar) نے ملک میں سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا کے محفوظ استعمال سے متعلق آگاہی کے فروغ کے لیے نیشنل سائبر سیکیورٹی اینڈ سوشل میڈیا آگاہی کونسل قائم کرنے کی تجویز دے دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل خواندگی کو اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے نصاب کا حصہ بنانا ہوگا، جبکہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے تیار کردہ مواد کی واضح لیبلنگ بھی لازمی قرار دی جانی چاہیے۔

پی ٹی اے کے زیرِ اہتمام سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتہ 2026ء کی افتتاحی تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ ڈیجیٹل دنیا تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور اس کے ساتھ سائبر سیکیورٹی، غلط معلومات، ڈیپ فیک اور مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والے چیلنجز میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ ان مسائل سے نمٹنے کے لیے صرف عارضی آگاہی مہم کافی نہیں بلکہ مسلسل اور مربوط کوششوں کی ضرورت ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ڈیجیٹل خواندگی کے حوالے سے ملک میں اس وقت کوئی یکساں نصاب موجود نہیں، اس لیے ضروری ہے کہ تعلیمی اداروں میں اس موضوع کو باقاعدہ طور پر شامل کیا جائے۔ ان کے مطابق ڈیجیٹل خواندگی کا نصاب ٹیکنالوجی میں ہونے والی تیز رفتار تبدیلیوں کے مطابق مسلسل اپ ڈیٹ ہونا چاہیے تاکہ طلبہ جدید ڈیجیٹل خطرات اور ان سے بچاؤ کے طریقوں سے آگاہ رہ سکیں۔

انہوں نے زور دیا کہ بچوں کو سوشل میڈیا کے محفوظ اور غیر محفوظ استعمال کے درمیان فرق سمجھانا ہوگا، انہیں آن لائن خطرات سے بچنے اور اپنی ذاتی معلومات کی حفاظت کرنے کے طریقے سکھانے ہوں گے۔

اے آئی سے تیار کردہ مواد کی لیبلنگ لازمی قرار دینے کی تجویز

عطاء اللہ تارڑ نے مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد کی لیبلنگ کو ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا صارفین کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ جو مواد دیکھ رہے ہیں، آیا وہ حقیقی ہے یا مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز میں سے اب تک صرف ٹک ٹاک نے اے آئی سے تیار کردہ مواد کی لیبلنگ لازمی قرار دی ہے۔ ڈیپ فیک اور مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ گمراہ کن مواد موجودہ دور کے اہم چیلنجز ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے واضح ضابطوں اور مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔

مزیدپڑھیں:زہر کے انجکشن سے سزائے موت پا کر بچ جانیوالی امریکی خاتون کا پہلا بیان سامنے آگیا

وفاقی وزیر نے کہا کہ غلط معلومات کا پھیلاؤ اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے خطرات ایک بڑا قومی چیلنج بن چکے ہیں۔ سوشل میڈیا کے آغاز اور ڈیجیٹل منظرنامے میں تیزی سے تبدیلیوں کے باعث ریگولیٹری فریم ورک تشکیل دینا بھی ایک مشکل مرحلہ رہا ہے۔

تمام اداروں میں ڈیجیٹل خواندگی سیل قائم کرنے کی تجویز

وفاقی وزیر اطلاعات نے تجویز دی کہ پاکستان کے ہر سرکاری ادارے میں ڈیجیٹل خواندگی سیل قائم کیا جائے، جبکہ سرکاری افسران کی بھی اس حوالے سے باقاعدہ تربیت کی جائے تاکہ وہ سائبر سیکیورٹی کے خطرات کو سمجھنے اور ان سے نمٹنے کی صلاحیت حاصل کرسکیں۔

انہوں نے کہا کہ صرف ایک ہفتے کی آگاہی مہم سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیے جا سکتے۔ سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا کے محفوظ استعمال کے حوالے سے مسلسل آگاہی فراہم کرنا ہوگی۔

عطاء اللہ تارڑ کے مطابق ایک کلک بھی کسی شہری کی نجی زندگی میں مداخلت اور اس کے ذاتی ڈیٹا تک رسائی کا سبب بن سکتا ہے، اس لیے عوام کو آن لائن سرگرمیوں کے دوران احتیاط اور ڈیٹا کے تحفظ کی اہمیت سے آگاہ کرنا ضروری ہے۔

نیشنل سائبر سیکیورٹی اینڈ سوشل میڈیا آگاہی کونسل کے قیام کی تجویز

وفاقی وزیر اطلاعات نے مجوزہ نیشنل سائبر سیکیورٹی اینڈ سوشل میڈیا آگاہی کونسل کے قیام کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس میں متعلقہ وفاقی وزارتوں، ڈویژنوں اور صوبائی حکومتوں کو شامل کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت پاکستان اور وزارت اطلاعات و نشریات اس کونسل کے قیام کے لیے مکمل تعاون فراہم کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ سائبر سیکیورٹی کے خطرات سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے تمام حکومتی شعبوں کو ایک مربوط اور مشترکہ حکمت عملی کے تحت کام کرنا ہوگا۔

عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کو بھی مجوزہ کونسل کے ذریعے سہولت فراہم کی جا سکتی ہے۔ ان کے مطابق این سی سی آئی اے نے بطور ادارہ کام شروع کر دیا ہے، جس سے پی ٹی اے کو بھی مدد ملے گی۔

آگاہی مہم کے لیے مختلف طبقات کو ہدف بنانے پر زور

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا کے حوالے سے آگاہی کے لیے ایک ہی پالیسی یا پیغام تمام طبقات کے لیے مؤثر نہیں ہوسکتا۔ مختلف عمر، پیشے اور سماجی پس منظر رکھنے والے افراد کے لیے مخصوص نوعیت کے پیغامات تیار کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ درست پیغام، درست فارمیٹ میں متعلقہ سامعین تک پہنچانا ہوگا۔ اس مقصد کے لیے مائیکرو انفلوئنسرز کی خدمات بھی حاصل کی جا سکتی ہیں، کیونکہ ان کے ذریعے مخصوص طبقات تک آگاہی کا پیغام زیادہ مؤثر انداز میں پہنچایا جا سکتا ہے۔

عطاء اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ شہریوں کو صرف خطرات سے آگاہ کرنا کافی نہیں، بلکہ انہیں درپیش مسائل کا حل فراہم کرنا بھی ایک بڑی قومی خدمت ہوگی۔

وزارت اطلاعات میں ڈیجیٹل کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ قائم

وفاقی وزیر نے بتایا کہ وزارت اطلاعات و نشریات میں پاکستان کا پہلا ڈیجیٹل کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ قائم کیا گیا ہے، جو ڈیجیٹل ذرائع ابلاغ اور کمیونیکیشن کے شعبے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

انہوں نے پی ٹی اے اور اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کی پالیسی سازی، ریگولیشن، عمل درآمد اور عوامی آگاہی کے لیے کوششوں کو قابلِ ستائش قرار دیا۔

عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ سائبر سیکیورٹی کے بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے حکومتی اداروں، متعلقہ ریگولیٹری اداروں اور عوام کے درمیان مؤثر رابطہ ضروری ہے۔ ڈیجیٹل خواندگی کے فروغ، ذاتی معلومات کے تحفظ اور غلط معلومات کی روک تھام کے لیے مشترکہ کوششوں کے ذریعے ہی محفوظ ڈیجیٹل ماحول تشکیل دیا جا سکتا ہے۔