تھمپو/گواہاٹی: بھوٹان کے اضلاع میں گلیشیر کی جھیل اچانک پھٹنے (GLOF) کے بعد مو چھو ندی میں شدید طغیانی آ گئی ہے، جس کے باعث بھارتی ریاستوں مغربی بنگال اور آسام میں سیلاب کا ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
شنتفھو جھیل کی تباہ کاری اور عمارتی نقصان:
تفصیلات کے مطابق، ہمالیائی ملک بھوٹان کے شمال مغربی ضلع گاسا میں واقع شنتفھو (Shintaphu) نامی گلیشیر کی جھیل کی قدرتی بندش جمعرات کی شام اچانک ٹوٹ گئی۔ جھیل کے پھٹنے سے لاکھوں کیوبک میٹر پانی کا خوفناک سیلاپ نچلے علاقوں کی طرف بہہ نکلا اور مو چھو ندی (Mo Chhu River) میں طغیانی کا سبب بنا۔
اس اچانک سیلابی ریلے نے گاسا کے مشہور ‘تشاچو ہارٹ اسپرنگ (Gasa Tshachu Hot Spring) کمپلیکس کو مکمل طور پر بہا دیا اور پناکھا-گاسا شاہراہ کو شدید نقصان پہنچایا۔ تاہم، بھوٹانی حکام کے مطابق وقت پر پیشگی اطلاع اور خطرے کے نشان پر موجود بستیوں کی ہنگامی انخلا کی وجہ سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ دارالحکومت تھمپو کی حکومت نے بھارتی حکام کو سرحدی اضلاع میں ممکنہ سیلابی اثرات کے پیش نظر باضابطہ طور پر مطلع کر دیا ہے۔
An artificial lake has formed upstream due to the GLOF flood. Be advised downstream areas in Assam along the Sankosh river. https://t.co/Ux3Hcve7by
— Tenzing Lamsang (@TenzingLamsang) October 30, 2026
بھارتی ریاستوں مغربی بنگال اور آسام میں ہائی الرٹ:
بھوٹان سے آنے والے سیلابی ریلے کے پیش نظر بھارت کے سینٹرل واٹر کمیشن (CWC) نے فوری ایکشن لیتے ہوئے آسام اور مغربی بنگال کے لیے خصوصی فلڈ ایڈوائزری جاری کر دی ہے۔ آسام کے اضلاع دھوبری اور کوکراجھار کو شدید نگرانی میں رکھا گیا ہے جبکہ ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (NDRF) کو ہائی الرٹ پر رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
دوسری جانب، مغربی بنگال کی انتظامیہ نے دارجلنگ کے پہاڑی علاقوں، علی پور دوار اور جلپائی گوڑی کے اضلاع کے لیے الرٹ جاری کیا ہے۔ کوچ بہار کے حکام نے سنکوش ندی (Sankosh River) کے کنارے آباد شہریوں کو محتاط رہنے کی تنبیہ کی ہے۔ سنکوش ندی بھوٹان سے نکل کر آسام میں برہم پترا ندی کے نظام میں شامل ہوتی ہے، جس کے باعث ندی کی سطح میں اضافہ دونوں ریاستوں کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔
گلیشیر جھیل کے پھٹنے (GLOF) کی سائنسی وجہ:
سائنسی اصطلاح میں گلیشیر جھیل کا پھٹنا (Glacial Lake Outburst Flood – GLOF) ایک ایسا مہیب واقعہ ہے جس میں گلیشیر کے پگھلنے سے بننے والی جھیل کے گرد موجود برف یا مٹی کی قدرتی دیواریں اچانک ٹوٹ جاتی ہیں اور ذخیرہ شدہ پانی ایک ساتھ باہر نکل آتا ہے۔
ماہرینِ موسمیات کے مطابق، شنتفھو جھیل بھوٹان کی ان 17 انتہائی خطرناک اور حساس گلیشیر جھیلوں کی سرکاری فہرست میں شامل ہے جن پر درجہ حرارت میں اضافے اور ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے مسلسل نظر رکھی جا رہی تھی۔ تبت، چین اور نیپال کی سرحد پر تباہ کن سیلاب کے بمشکل تین ماہ بعد پیش آنے والے اس نئے واقعے نے ہمالیائی خطے میں موسمیاتی تبدیلیوں کے بھیانک اثرات پر ایک بار پھر الارم بجا دیا ہے۔









