لاس اینجلس :ہالی ووڈ کے مایہ ناز برطانوی اداکار اور ’ایکس مین‘ (X-Men) سیریز کے عالمی شہرت یافتہ کردار ’پروفیسر چارلس زیویئر‘ کو زبان دینے والے سر پیٹرک اسٹیورٹ 86 برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔
موت کی وجہ، اخری لمحات اور ترجمان کا بیان:
سر پیٹرک اسٹیورٹ کے اچانک انتقال کی خبر ان کی دیرینہ ترجمان اور پبلسسٹ کیلی بش نوواک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری کیے۔ سرکاری بیان کے مطابق، 86 سالہ اداکار نے بدھ 28 اکتوبر 2026ء کو لاس اینجلس میں واقع اپنی رہائش گاہ پر زندگی کی آخری سانسیں لیں۔
ترجمان کے مطابق، پیٹرک اسٹیورٹ گزشتہ کچھ عرصے سے الزائمر (Alzheimer’s Disease) اور ’لوئی باڈی ڈیمینشیا‘ (Lewy Body Dementia) نامی شدید ذہنی اور اعصابی عارضے میں مبتلا تھے، جو ان کے انتقال کا بنیادی سبب بنا۔ دنیا سے رخصت ہوتے وقت ان کی تیسری اہلیہ اور معروف گلوکارہ سنی اوزیل (Sunny Ozell) ان کے پاس موجود تھیں۔ اہل خانہ نے مداحوں اور تعزیت کنندگان سے درخواست کی ہے کہ پھول بھیجنے کی بجائے الزائمر ریسرچ فنڈ اور کیئر گیور ریسورسز میں عطیات جمع کرائے جائیں۔
چھ دہائیوں پر محیط کیریئر اور عالمی شہرت:
سر پیٹرک اسٹیورٹ کی فنکارانہ سفر کی تاریخ تقریباً چھ دہائیوں (60 سال) پر محیط ہے، جس کے دوران انہوں نے تھیٹر، کلاسیکی ڈراموں، فلموں اور ٹیلی ویژن پر اپنی لافانی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ انہوں نے اپنے شوبز کیریئر کا باقاعدہ آغاز 1967ء میں برطانوی ڈرامے ’کورونیشن اسٹریٹ‘ اور بعد میں 1971ء میں براڈوے تھیٹر کے مشہور ناٹک ’اے مڈسمر نائٹس ڈریم‘ سے کیا۔
تھریٹر میں شیکسپیئر کے ڈراموں پر ان کی گرفت نے انہیں دنیا بھر میں منفرد شناخت دی۔ ان کے لافانی کرداروں میں ’سٹار ٹریک: دی نیکسٹ جنریشن‘ کے کیپٹن ‘جین لوک پیکارڈ’ اور سال 2000ء کی بلاک بسٹر فلم ’ایکس مین‘ میں طاقتور ترین میوٹنٹ ’پروفیسر چارلس زیویئر‘ شامل ہیں۔ انہوں نے ایکس مین کے متعد سیکوئلز، جیسا کہ ‘X2’، ‘دی لاسٹ اسٹینڈ’، ‘ڈیز آف فیوچر پاسٹ’ اور ‘لوگن’ میں اس کردار کو اتنی مہارت سے نبھایا کہ وہ تاریخ میں ہمیش کے لیے امر ہو گئے۔
اعزازات، نائٹ ہڈ اور 75 ملین ڈالر کے اثاثے:
ڈراما، فن اور اداکاری میں بے مثال تاریخی خدمات کے اعتراف میں 2010ء میں برطانیہ کی ملکہ الزبتھ دوم نے انہیں اعلیٰ ترین شہری اعزاز ‘نائٹ ہڈ’ سے نوازا، جس کے بعد ان کے نام کے ساتھ ‘سر’ کا اضافہ ہوا۔ اس کے علاوہ انہوں نے اپنے طویل کیریئر میں دو لورینس اولیویر ایوارڈز، ایک گرامیز ایوارڈ اور متعدد ایمی و گولڈن گلوب نامزدگیاں حاصل کیں۔
اکنامک ٹائمز کی مالیاتی رپورٹ کے مطابق، انتقال کے وقت سر پیٹرک اسٹیورٹ کی کل اثاثوں کی مالیت 75 ملین امریکی ڈالر (تقریباً 714 کروڑ بھارتی روپے) کے قریب تھی۔ اداکاری کے بھاری محنتانے کے علاوہ، ان کی آمدنی کا ایک بڑا حصہ نیویارک، کیلیفورنیا اور شمالی انگلینڈ میں موجود مہنگے رئیل اسٹیٹ اور پراپرٹی پورٹ فولیو سے حاصل ہوتا تھا۔
فلم ’ایوینجرز: ڈومز ڈے‘ میں آخری جلوہ گری اور خراجِ تحسین:
پیٹرک اسٹیورٹ کی وفات کے بعد اب شائقین انہیں مارول اسٹوڈیوز کی آنے والی سپر ہٹ فلم ’ایوینجرز: ڈومز ڈے‘ (Avengers: Doomsday) میں آخری بار ’پروفیسر ایکس‘ کے روپ میں دیکھ سکیں گے۔ یہ فلم دسمبر 2026ء میں عالمی سطح پر ریلیز کے لیے تیار ہے، جس میں ان کا کردار بعد از مرگ (Posthumously) شامل رہے گا۔
ان کے انتقال کی خبر نشر ہوتے ہی دنیا بھر سے شوبز شخصیات، مداحوں اور مارول اسٹوڈیوز کی جانب سے دکھ اور صدمے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ سر ایان میک کیلن اور ہیو جیک مین (وولورین) سمیت ان کے قریبی ساتھیوں نے پیٹرک کے ساتھ گزارے وقت کو یاد کیا۔ مارول اسٹوڈیوز نے ان کے احترام میں جاری تفصیلی نوٹ میں کہا کہ “سر پیٹرک اسٹیورٹ نے پروفیسر چارلس زیویئر کو جس سنجیدگی، وقار اور انسانی جذبے کے ساتھ پیش کیا، وہ شائقین کی آنے والی کئی نسلیں یاد رکھیں گی۔ وہ ایک لاجواب آرٹسٹ اور سچے جنٹلمین تھے”۔ وہ اپنے پیچھے اپنی اہلیہ سنی، اور اپنی پہلی شادی سے دو بچوں، بیٹی صوفیہ اور بیٹے ڈینیل کو سوگوار چھوڑ گئے ہیں۔









