ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق ہانگ کانگ کے سب سے بڑے اور ہولناک آتشزدگی کے واقعے کی جوڈیشل انکوائری رپورٹ جاری کر دی گئی ہے۔
ہانگ کانگ میں رونما ہونے والے دہائیوں کے سب سے بڑے اور ہولناک آتشزدگی کے واقعے (تائی پو فائر) کی جج کی سربراہی میں ہونے والی تفصیلی انکوائری رپورٹ باضابطہ طور پر جاری کر دی گئی ہے۔ اس المیے میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا، جس نے پورے خطے کو سوگوار کر دیا۔
رپورٹ کے مطابق اس ہولناک آتشزدگی کے نتیجے میں ہانگ کانگ میں بڑے پیمانے پر ہلاکتیں اور شدید نقصانات ریکارڈ کیے گئے، جو کہ شہر کی تاریخ کے بدترین فائر حادثات میں شمار ہوتے ہیں۔ انکوائری کمیشن نے اپنی تحقیقات میں اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ اس حادثے میں انتظامی سطح پر سنگین نوعیت کی کوتاہیاں اور غفلت برتی گئی۔ رپورٹ میں مرکزی رینوویشن کنٹریکٹر اور پروجیکٹ کنسلٹنٹ کو اس سانحے کا براہِ راست ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے سخت ترین الفاظ میں مذمت کی گئی ہے، جبکہ چار اہم سرکاری اداروں کی نظامی نگرانی میں ناکامی اور سقم کو بھی کھل کر بے نقاب کیا گیا ہے۔
اس سنگین سانحے کے بعد ہانگ کانگ کی حکومت اور انتظامیہ پر شدید دباؤ تھا، جس کے پیش نظر ہانگ کانگ کے چیف ایگزیکٹو جان لی اور دیگر اعلیٰ حکام نے پریس کانفرنس کے دوران اس المناک واقعے پر عوام کے سامنے سر جھکا کر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا اور عوامی سطح پر باضابطہ معافی مانگی۔ اس کے علاوہ، حکومتی سطح پر ذمہ داری قبول کرتے ہوئے ہاؤسنگ چیف نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کا اعلان کر دیا ہے تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ حکومت نے رپورٹ کی سفارشات کی روشنی میں پرانی عمارتوں، ضلعی ترقی اور فائر سیفٹی کے قوانین کو مزید سخت بنانے اور کڑی نگرانی کے نئے جامع اقدامات نافذ کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے اندوہناک واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔









