دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائنانس (Binance)نے دعویٰ کیا ہے کہ ہیکنگ کے ذریعے چوری ہونے والے 6 ارب 30 کروڑ ڈالر میں سے 6 ارب ڈالر کے برابر رقم کا انتظام کرلیا گیا ہے، جبکہ باقی رقم کی واپسی کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں۔
بائنانس کے مطابق کمپنی نے اپنے وسائل استعمال کرتے ہوئے چوری ہونے والے ڈیجیٹل ٹوکنز کی جگہ نئے ٹوکن خریدے ہیں تاکہ صارفین کو ہونے والے مالی نقصان کا ازالہ کیا جاسکے۔
کمپنی نے ہفتے کے روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ہیکنگ سے متاثر ہونے والی رقم میں سے 6 ارب ڈالر کا انتظام پہلے ہی کیا جاچکا ہے۔ اس سے قبل کمپنی نے بتایا تھا کہ وہ چوری ہونے والے 90 فیصد اثاثوں کا انتظام کرچکی ہے۔
Update: We have already covered $6B of the impacted amount of the hacked loss. https://t.co/WOHKdQLiSG
— Binance (@binance) November 1, 2026
بائنانس کے مطابق باقی ماندہ رقم 10 فیصد سے بھی کم ہے، تاہم اس میں ایسے ڈیجیٹل اثاثے شامل ہیں جن کی خرید و فروخت آسان نہیں اور مطلوبہ مقدار میں انہیں حاصل کرنے میں مزید وقت لگ سکتا ہے۔
امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے ہفتے کے روز کہا کہ اس سائبر حملے کے پیچھے شمالی کوریا کا سرکاری سرپرستی میں کام کرنے والا ہیکنگ گروپ ٹریڈر ٹریٹر ملوث تھا۔
ایف بی آئی کے مطابق اس گروپ کے ارکان کو چوری کیے گئے اثاثوں کو ایتھریم نامی کرپٹو کرنسی میں تبدیل کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ ادارے نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ہیکرز متعلقہ ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے چوری شدہ رقم کو مزید خفیہ طریقوں سے منتقل کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔
مزیدپڑھیں:گیس کی سپلائی، حکومت نے دسمبر اور جنوری کیلئے بڑی خوشخبری سنا دی
شمالی کوریا کئی سال سے ان الزامات کی تردید کرتا آیا ہے کہ وہ جاسوسی، مالیاتی چوری اور آمدنی حاصل کرنے کے لیے سرکاری سرپرستی میں سائبر حملے کرتا ہے۔ اس معاملے پر شمالی کوریا کے جنیوا مشن اور چین میں قائم سفارت خانے سے بھی مؤقف لینے کی کوشش کی گئی، تاہم کوئی جواب نہیں ملا۔
اس سے قبل مختلف تجزیہ کار بھی اس سائبر حملے میں شمالی کوریا کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کرچکے تھے اور اسے دنیا کی تاریخ کی سب سے بڑی مالیاتی چوری قرار دیا جارہا تھا۔
بائنانس کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے میں دیگر کرپٹو کمپنیوں اور متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر کام کررہی ہے تاکہ چوری ہونے والے اثاثوں کو منجمد کیا جاسکے۔ کمپنی کے مطابق جمعے تک تقریباً 3 ارب ڈالر کے متاثرہ اثاثوں کا پتا لگا کر انہیں منجمد کرنے کی کوشش کی جاچکی تھی۔
کمپنی نے واضح کیا ہے کہ ہیکنگ کے نتیجے میں ہونے والے مالی نقصان کی ذمہ داری خود بائنانس اٹھائے گی اور صارفین کے فنڈز کو محفوظ رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
بائنانس نے بتایا کہ نقصان پورا کرنے کے لیے رقم کا انتظام مختلف ذرائع سے کیا گیا ہے، جن میں صارفین کے تحفظ کے لیے قائم ایک ارب ڈالر کا سیکیور ایسٹ فنڈ فار یوزرز، بٹ کوائن کے ذخائر، فیوچرز انشورنس فنڈ اور کمپنی کے اپنے مالی وسائل شامل ہیں۔
کمپنی کی شریک چیف ایگزیکٹو یی ہی نے ہفتے کے روز کہا کہ سیکیور ایسٹ فنڈ کی 50 فیصد رقم اس مقصد کے لیے استعمال کی جائے گی۔ تاہم بائنانس نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ وہ اس فنڈ میں دوبارہ رقم شامل کرے گی تاکہ اسے تقریباً ایک ارب ڈالر کی سابقہ سطح پر بحال کیا جاسکے۔









