سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) نے رواں سال جنوری میں آتشزدگی کے باعث تباہ ہونے والے کراچی کے تجارتی مرکز گل پلازہ کو منہدم کرنے کے لیے مختلف کمپنیوں سے بولیاں طلب کرلی ہیں۔ اس آتشزدگی کے نتیجے میں 72 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔
اتھارٹی کی جانب سے جاری اشتہار کے مطابق بولیاں جمع کرانے کی آخری تاریخ 20 نومبر مقرر کی گئی ہے، جبکہ اس کام کی ابتدائی قیمت 4 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔ کمپنیوں سے تکنیکی اور مالی تجاویز الگ الگ طلب کی گئی ہیں اور انہدام کا کام ایس بی سی اے کی نگرانی میں ہوگا۔
ایس بی سی اے کے ڈائریکٹر ڈیمولیشن کے مطابق ٹھیکا صرف سب سے زیادہ بولی دینے والی کمپنی کو نہیں دیا جائے گا، بلکہ ان کمپنیوں کو ترجیح دی جائے گی جنہیں کم از کم 20 عمارتیں منہدم کرنے کا تجربہ ہو۔
منتخب کمپنی کو تین ماہ کے اندر عمارت گرانے کا کام مکمل کرنا ہوگا۔ معاہدے کے تحت کمپنی عمارت کا ملبہ اور اسکریپ اپنے پاس رکھ سکے گی، تاہم ملبے سے ملنے والی دکانداروں کی اشیا کی تقسیم کا فیصلہ ڈپٹی کمشنر کراچی جنوبی کریں گے۔
گل پلازہ میں 17 جنوری 2026 کی شب آگ لگی تھی۔ ایم اے جناح روڈ پر واقع یہ 8 ہزار 128 مربع گز پر پھیلا ہوا تجارتی مرکز کئی دہائیوں سے کاروباری سرگرمیوں کا اہم مرکز تھا۔ آتشزدگی کے نتیجے میں ایک ہزار 153 سے زائد دکانیں تباہ ہوگئیں، جبکہ آگ بجھانے میں کئی روز لگے۔
جنوری میں قائم کی گئی ایک تکنیکی کمیٹی نے عمارت کو منہدم کرنے کی سفارش کی تھی۔ سندھ حکومت بھی اس مقام پر نئی عمارت تعمیر کرنے کے منصوبے کا اعلان کرچکی ہے۔
کراچی کی ایم اے جناح روڈ پر واقع کثیر المنزلہ شاپنگ کمپلیکس گل پلازہ میں 17 جنوری 2026 کی رات آگ لگی تھی۔ تقریباً 1.75 ایکڑ رقبے پر پھیلے اس پرانے تجارتی مرکز میں لگ بھگ 12سو دکانیں قائم تھیں۔
حکومت سندھ کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق آگ گراؤنڈ فلور پر گیٹ نمبر 6 کے قریب مصنوعی پھولوں اور گفٹ کی ایک دکان سے شروع ہوئی تھی۔ رپورٹ میں آگ لگنے کی وجہ جلتی ہوئی ماچس کی تیلی کو قرار دیا گیا۔
عمارت میں موجود کاسمیٹکس، کپڑوں اور پلاسٹک کی اشیا کی دکانوں کے باعث آگ تیزی سے پھیل گئی۔ آگ بجھانے کے عمل میں فائر بریگیڈ، ریسکیو 1122، کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن، پاک بحریہ، پولیس اور رینجرز نے حصہ لیا۔ فائر فائٹرز کو آگ پر قابو پانے میں ایک دن سے زیادہ وقت لگا۔
حکومت سندھ کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق احتیاطی تدبیر کے طور پر رات تقریباً 10 بج کر 20 منٹ پر عمارت کی بجلی بند کردی گئی، جس کے باعث اندر مکمل اندھیرا چھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق واقعے کے وقت عمارت میں اندازاً 2 ہزار سے 2 ہزار 500 افراد موجود تھے۔ آگ لگنے کے بعد عمارت میں خوف و ہراس پھیل گیا، جبکہ متعدد ہنگامی راستے بند تھے، ان میں رکاوٹیں موجود تھیں یا ان پر تجاوزات قائم تھیں۔ تنگ سیڑھیوں نے بھی لوگوں کے باہر نکلنے میں مشکلات پیدا کیں۔
ذرائع کے مطابق عمارت کے 16 میں سے 13 ہنگامی راستے بند تھے۔ تحقیقاتی رپورٹ میں اس سانحے کی بنیادی وجوہات میں سنگین غفلت کو قرار دیا گیا۔
ابتدائی اطلاعات میں جاں بحق افراد کی تعداد 6 بتائی گئی تھی، جو امدادی کارروائیوں کے دوران ملبے سے لاشیں اور انسانی باقیات ملنے کے بعد مسلسل بڑھتی رہی۔ 23 جنوری تک یہ تعداد 71 اور 25 جنوری تک 73 ہوگئی تھی۔ بعد ازاں مختلف میڈیا رپورٹس میں جاں بحق افراد کی تعداد 78 سے 80 کے درمیان بتائی گئی، تاہم مختلف ذرائع کی جانب سے اعداد و شمار میں فرق رہا۔
مزید پڑھیں:جدید کورسز اور 15 ہزار ماہانہ وظیفہ! 18 سے 45 سال کی عمر کی خواتین کے لیے بڑی خوشخبری
متعدد متاثرین کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کرانا پڑے۔ سندھ حکومت نے جاں بحق افراد کے اہل خانہ کے لیے ایک کروڑ روپے فی خاندان معاوضے کا اعلان بھی کیا تھا۔









