برآمدات بڑھائے بغیر معاشی خود کفالت کا ہدف حاصل نہیں کیا جا سکتا، محمد اورنگزیب کا پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کی تقریب سے ورچوئل خطاب
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ معاشی استحکام کے بعد ملک میں پائیدار ترقی کا سفر شروع ہو چکا ہے تاہم اس ہدف کے حصول کے لیے برآمدات میں اضافہ، نجی سرمایہ کاری کا فروغ اور مالیاتی نظم و ضبط ناگزیر ہیں۔
پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کی تقریب سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیرخزانہ نے کہا کہ بینکوں کو نجی شعبے کے لیے قرضوں کی فراہمی آسان بنانا ہوگی کیونکہ چھوٹے کاروبار اور زرعی شعبے کا فروغ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
محمد اورنگزیب نے بتایا کہ پاکستان مرکزی بینک کے ذخائر کے ذریعے سرحد پار ادائیگیوں کے امکانات جبکہ بینک فار انٹرنیشنل سیٹلمنٹس (بی آئی ایس) کا منصوبہ بینک ڈپازٹس کا جائزہ لے رہا ہے۔
سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’مالی سال 2026ء میں جی ڈی پی 3.65 فیصد ریکارڈ، معیشت کا حجم 450 ارب ڈالر تک پہنچ گیا‘
’مالی سال 2026ء میں جی ڈی پی 3.65 فیصد ریکارڈ، معیشت کا حجم 450 ارب ڈالر تک پہنچ گیا‘
وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ برآمدات بڑھائے بغیر معاشی خود کفالت کا ہدف حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ مالیاتی نظم و ضبط، برآمدات میں اضافے اور نجی سرمایہ کاری کے فروغ کو یقینی بنانا ضروری ہے۔
انہوں نے بینکوں پر زور دیا کہ وہ نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی میں آسانی پیدا کریں تاکہ چھوٹے کاروبار اور زرعی شعبے کو ترقی کے مواقع مل سکیں۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ ورچوئل اثاثہ جات ایکٹ کے تحت پاکستان میں قانونی فریم ورک قائم کیا گیا ہے۔ ڈیجیٹل اثاثوں کو مالیاتی نظام میں جگہ حقیقی معاشی فوائد اور کاروبار میں آسانی کی بنیاد پر ملنی چاہیے۔
وفاقی وزیرخزانہ نے مزید بتایا کہ پیوارا (PVARA) ورچوئل اثاثہ خدمات فراہم کرنے والوں کی لائسنسنگ کی ذمہ دار ہے۔
دوسری جانب پاکستان کے سلطان علی نے شنگھائی تعاون تنظیم کے انٹربینک کنسورشیم کی 2027-2026 کیلئے چیئرمین شپ کا عہدہ سنبھال لیا۔
ترجمان وزارت خزانہ نے علاقائی ترقی اور مشترکہ خوشحالی کے فروغ کیلئے پاکستان کا تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ایس سی او کی سربراہی اور انٹربینک کنسورشیم کی قیادت سنبھالنا اہم پیشرفت ہے۔
مزیدپڑھیں:سپریم کورٹ کے پابند نہیں، صرف رہنمائی لے سکتے ہیں، وفاقی آئینی عدالت کا اہم فیصلہ
پاکستان کا علاقائی تجارت، سرمایہ کاری اورمالیاتی روابط کے فروغ میں کردارمستحکم ہوگا،پاکستان رکن ممالک کے درمیان اقتصادی شراکت داری مضبوط بنانے کیلئے پُرعزم ہے،علاقائی اقتصادی انضمام کا فروغ پاکستان کی ترجیحات میں شامل ہے۔









