بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بنگلہ دیش: ماہانہ اجرت میں اضافے کیلئےگارمنٹس ملازمین سڑکوں پر، پولیس سے جھڑپیں

17 کروڑ آبادی پر مشتمل بنگلہ دیش، چین کے بعد دنیا کا دوسرا بڑا ملبوسات برآمد کرنے والا ملک ہے۔ ہزاروں ملازمین نے کم از کم ماہانہ اجرت میں اضافہ نہ کیے جانے کے خلاف ملک گیر احتجاجی مظاہرے شروع کردیے ہیں۔

17 کروڑ آبادی پر مشتمل بنگلہ دیش، چین کے بعد دنیا کا دوسرا بڑا ملبوسات برآمد کرنے والا ملک ہے، جہاں دنیا کے کئی بڑے بین الاقوامی برانڈز کے لیے کپڑے تیار کیے جاتے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بنگلہ دیش میں کم از کم ماہانہ اجرت موجودہ تنخواہ سے دوگنا سے بھی زیادہ کرنے کے مطالبے پر ہزاروں ٹیکسٹائل ملازمین نے پیر کو ڈھاکا۔ٹانگائل اہم شاہراہ بند کردی اور پولیس کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں۔ صنعتی مراکز میں احتجاج کا دائرہ پھیلنے کے باعث صورتحال کشیدہ ہوگئی۔

دارالحکومت ڈھاکا کے شمالی ضلع غازی پور میں سینکڑوں احتجاجی ملازمین نے ڈھاکہ تنگیل ہائی وے بند کرکے متعدد گاڑیوں کو نقصان پہنچایا۔

دوسری جانب ضلع میر پور میں ورکرز کی بڑی تعداد نے گلیوں اور سڑکوں کا رخ کیا۔ ملازمین کے مختلف گروہوں کی پولیس کے ساتھ جڑپیں بھی ہوئیں، جن کے دوران پولیس کی جانب سے آنسو گیس کا استعمال کیا گیا جبکہ مشتعل وکرز نے پولیس کی ایک گاڑی کو آگ لگا دی۔

رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیش کی حکومت نے اتوار کو ورکرز کی کم از کم اجرت میں اضافے کے لیے ویج بورڈ قائم کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن اس کے باوجود ملازمین نے احتجاجی مظاہرے شروع کردیے۔

تاہم، مزدور رہنماؤں کا کہنا ہے کہ صنعتی کارکنان کی مشکلات محض ویج بورڈ قائم کرنے سے حل نہیں کی جاسکتیں کیونکہ مہنگائی اور گھریلو اخراجات میں مسلسل اضافے نے بھی ان کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔

مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ ماہانہ کم از کم اجرت 30 ہزار ٹکا مقرر کی جائے، جو ان کی موجودہ تنخواہ سے دگنا سے بھی زیادہ ہے۔

بنگلہ دیش سینٹر فار ورکرز سالیڈیریٹی کی کالپونا اختر کے مطابق گارمنٹس ملازمین اس وقت ماہانہ تقریباً 13 ہزار ٹکا اجرت حاصل کر رہے ہیں۔

ڈھاکا کے نواحی علاقے اشولیا میں بھی پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اسٹن گرینیڈ اور آنسو گیس کے گولے استعمال کیے۔ اشولیا ملک کی بڑی گارمنٹس فیکٹریوں کا مرکز ہے۔

28 سالہ فیکٹری ورکر مامون نے بتایا کہ اشیائے خورونوش، گیس اور بجلی کے بلوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، حکومت کو چاہیے کہ یا تو بنیادی ضروریات کی قیمتیں کم کرے یا ہماری اجرت میں اضافہ کرے۔

مشین آپریٹر 24 سالہ شرمین کا کہنا تھا کہ ملکی معیشت کا پہیہ مزدوروں کی محنت سے چلتا ہے، اس لیے حکومت کو ان کی آواز سننی چاہیے۔

وزیر داخلہ صلاح الدین احمد نے ورکرز کو احتجاج جاری رکھنے پر سخت اقدامات کا انتباہ دیا ہے۔ پیر کو صنعتی شعبے کے رہنماؤں سے ملاقات کے بعد انہوں نے کہا کہ مزدور تحریکوں کی آڑ میں غیر قانونی سرگرمیوں اور سازشوں میں ملوث عناصر سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔

مزید پڑھیں:

تاہم انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم طارق رحمان نے اتوار کی شب ہنگامی کابینہ اجلاس کے بعد حکام کو ہدایت کی تھی کہ مزدوروں کے حقوق کا تحفظ اور ان کا معیار زندگی بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

ان کے مطابق طارق رحمان نے یہ بھی ہدایت کی تھی کہ صنعتی پیداوار اور برآمدات کا سلسلہ کسی رکاوٹ کے بغیر جاری رہنا چاہیے۔

سرکاری خبر رساں ادارے بی ایس ایس کے مطابق بنگلہ دیش کی گارمنٹس اور نٹ ویئر کی بڑی صنعتی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ طویل احتجاج سے پیداوار متاثر ہوسکتی ہے، برآمدی کھیپوں کی ترسیل میں تاخیر ہوسکتی ہے اور بین الاقوامی خریداروں سے کیے گئے وعدے بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

ایکوٹا گارمنٹس شرمک فیڈریشن کے جنرل سیکریٹری کمال الحسن نے اے ایف پی کو بتایا کہ بعض مزدور رہنما روپوش ہوگئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ویج بورڈ پہلے ہی قائم کیے جانے کے باعث مزدور رہنما بھی اس احتجاج کے لیے تیار نہیں تھے، تاہم اب کارکن اجرتوں اور دیگر حل طلب مسائل کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیں:سابق کپتان محمد یوسف کا بابر اعظم کو خصوصی کوچنگ حاصل کرنے کا مشورہ

صنعتی شعبے کے نمائندوں کے مطابق اتوار کو ڈھاکا اور اس کے گردونواح کے صنعتی علاقوں، جن میں ساور، اشولیا، جیرانی اور غازی پور شامل ہیں، کی کم از کم 529 فیکٹریوں کے مزدور کام چھوڑ کر باہر نکل آئے تھے۔