عالمی مالیاتی مارکیٹ میں نئے کاروباری ہفتے کے آغاز پر ڈالر اور دیگر بڑی کرنسیوں کی قدر میں زیادہ تبدیلی نہیں ہوئی جبکہ سرمایہ کاروں کی توجہ امریکی وسط مدتی انتخابات پر مرکوز ہوگئی ہے۔
سرمایہ کار رواں ہفتے امریکا کے وسط مدتی انتخابات، اکتوبر کے روزگار کے اعدادوشمار اور برطانیہ، آسٹریلیا، ناروے اور سویڈن کے مرکزی بینکوں کے شرح سود سے متعلق فیصلوں کے منتظر ہیں۔
آج ایشیائی کاروباری سیشن کے آغاز پر یورو کی قدر 1.1159 ڈالر رہی جو گزشتہ 17 ماہ کی کم ترین سطح کے قریب ہے۔فرانس کے کریڈٹ آؤٹ لک کو مستحکم سے منفی کرنے کے فچ کے فیصلے کے بعد یورو دباؤ میں رہا۔
برطانوی پاؤنڈ کی قدر بھی زیادہ تبدیل نہیں ہوئی اور یہ 1.3387 ڈالر پر مستحکم رہا جبکہ مختلف کرنسیوں کے مقابلے میں ڈالر انڈیکس 101.94 پر برقرار رہا۔
جاپانی ین 0.15 فیصد کمی کے بعد 157.78 فی ڈالر پر آگیا جبکہ آسٹریلوی ڈالر 0.7033 ڈالر پر مستحکم رہا۔
نیوزی لینڈ کا ڈالر 0.11 فیصد کمی کے بعد 0.5625 ڈالر پر آگیا۔ گزشتہ ہفتے نیوزی لینڈ کے مرکزی بینک کی جانب سے شرح سود برقرار رکھنے کے غیر متوقع فیصلے کے بعد اس کی قدر میں 1.2 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔
مارکیٹ میں توقع کی جارہی ہے کہ ریزرو بینک آف آسٹریلیا منگل کو شرح سود بڑھا کر 4.85 فیصد کردے گا جو تقریباً 2 دہائیوں کی بلند ترین سطح ہوگی۔
دوسری جانب دنیا کے سب سے بڑے کرپٹو ایکسچینج بائنانس پر گزشتہ ہفتے 6.3 ارب ڈالر کی ریکارڈ ہیکنگ کے بعد بٹ کوائن اور ایتھر کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی۔بٹ کوائن جمعے کو 6 ہفتوں کی کم ترین سطح پر آگیا تھا جبکہ ایتھر کی قیمت بھی گزشتہ ہفتے 2 ماہ کی کم ترین سطح تک گر گئی تھی۔
آج بٹ کوائن 0.22 فیصد اضافے کے بعد 77 ہزار 975.62 ڈالر پر پہنچ گیا جبکہ ایتھر 0.27 فیصد اضافے کے ساتھ 2 ہزار 268.42 ڈالر پر رہا۔
بائنانس نے اتوار کو دوبارہ کاروبار بحال کیا تاہم ہیکنگ کے بعد صارفین نے ایکسچینج سے 3.64 ارب ڈالر، یعنی اس کے اثاثوں کا 2.1 فیصد نکال لیا۔ایف بی آئی نے اس ہیکنگ میں شمالی کوریا سے تعلق رکھنے والے ہیکرز کو ملوث قرار دیا ہے۔
بائنانس کے مطابق صارفین کی جانب سے رقوم نکلوانے کی ابتدائی لہر کے بعد صورتحال مستحکم ہورہی ہے جبکہ ڈپازٹس کا حجم بھی نمایاں رہا ہے۔
ایکسچینج نے مزید بتایا کہ چوری ہونے والے 6.3 ارب ڈالر کے اثاثوں میں سے 95 فیصد کا انتظام کرلیا گیا ہے۔
عالمی پرائم بروکر ایکسانٹے کے چیف ٹیکنالوجی افسر رچرڈ فورس کے مطابق کرپٹو انڈسٹری نے بلاک چینز کو محفوظ بنانے میں ایک دہائی صرف کی ہے لیکن اب بھی یہ نظام اس مفروضے پر چلتا ہے کہ ملازمین کے کمپیوٹر قابل اعتماد ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہی مفروضہ اب ڈیجیٹل مالیاتی نظام کا سب سے کمزور پہلو بن چکا ہے۔
امریکی شہری کل ووٹ ڈالیں گے تاکہ فیصلہ کیا جاسکے کہ ڈیموکریٹس صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی سے کانگریس کا کنٹرول واپس لے سکتے ہیں یا نہیں۔
انتخابی جائزوں میں ڈیموکریٹس کو ایوان نمائندگان میں کامیابی کا مضبوط امیدوار قرار دیا جارہا ہے تاہم سینیٹ میں مقابلہ سخت ہے۔
اسٹینڈرڈ چارٹرڈ کے عالمی تحقیق کے سربراہ اور چیف اسٹریٹجسٹ ایرک رابرٹسن کے مطابق انتخابات کے نتائج کا تجزیہ کرنا مشکل ہے کیونکہ سروے میں حکمران جماعت کے خلاف عوامی جذبات ظاہر ہوتے ہیں لیکن یہ ہمیشہ انتخابی نتائج میں تبدیل نہیں ہوتے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ڈیموکریٹس کانگریس کے دونوں ایوانوں پر کنٹرول حاصل کرلیتے ہیں تو ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کے منصوبوں کو ریاستی سطح پر رکاوٹوں کا سامنا ہوسکتا ہے۔اس کے علاوہ امریکی قرض کی حد میں اضافے سے متعلق آئندہ بحث بھی حالیہ تاریخ کی متنازع ترین بحثوں میں شامل ہوسکتی ہے۔
مزید پڑھیں:عالمی مالیاتی نظام کی تشکیل میں پاکستان کردارادا کررہا ہے، بلال بن ثاقب
ایمینا بینک کے ڈیریویٹوز ٹریڈنگ کے سربراہ آندریجا کوبیلجک کے مطابق ہیج فنڈز کو اکتوبر میں نمایاں نقصان ہوا جس کے باعث مالیاتی مارکیٹ میں کسی غیر متوقع صورتحال سے نمٹنے کی گنجائش محدود ہوگئی ہے۔









