بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

رات میں سورج کی روشنی، امریکی کمپنی نے ایک غیر معمولی منصوبہ پیش کردیا

توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے درمیان امریکی خلائی ٹیکنالوجی کمپنی ریفلیکٹ آربیٹل نے ایک غیر معمولی منصوبہ پیش کیا ہے۔ جس کے تحت خلا میں بڑے آئینے نصب کرکے سورج غروب ہونے کے بعد بھی زمین کے مخصوص علاقوں تک روشنی پہنچانے کی کوشش کی جائے گی۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

سائنسی جریدے ’دی ایسٹرو فزیکل جرنل لیٹرز‘ میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق کیلیفورنیا میں قائم کمپنی ایسے آئینے خلا میں بھیجنا چاہتی ہے جو سورج کی روشنی منعکس کرکے رات کے وقت زمین پر منتخب مقامات تک پہنچائیں۔ اس مقصد کے لیے کمپنی نے راکٹ تیار کرنے والی فرم اسکائی روٹ ایرو اسپیس کے ساتھ دو راکٹ لانچ کرنے کا معاہدہ بھی کیا ہے۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

کمپنی کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی سے شمسی توانائی کے منصوبوں کو زیادہ دیر تک بجلی پیدا کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ قدرتی آفات سے متاثرہ علاقوں میں روشنی پہنچانے اور امدادی سرگرمیوں کے دوران بھی اسے استعمال کرنے کے امکانات ہیں۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

منصوبے کے تحت تقریباً 18 بائی 18 میٹر کے آئینے زمین کے نچلے مدار میں نصب کیے جائیں گے۔ ان کی پوزیشن اس انداز میں تبدیل کی جاسکے گی کہ سورج کی روشنی منعکس ہوکر زمین کے مطلوبہ مقامات تک پہنچے۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

ابتدائی تجربے میں آئینوں سے تقریباً پانچ کلومیٹر چوڑے علاقے کو روشنی فراہم کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ روشنی کو مخصوص مقام پر برقرار رکھنے کے لیے آئینوں کی پوزیشن مسلسل تبدیل کرنا ہوگی۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

ریفلیکٹ آربیٹل کا منصوبہ چند آئینوں تک محدود نہیں۔ کمپنی کا ہدف 2035 تک خلا میں 50 ہزار سیٹلائٹس پر مشتمل نیٹ ورک قائم کرنا ہے۔ کمپنی کے مطابق ابتدائی مرحلے میں ان آئینوں سے منعکس ہونے والی روشنی چاندنی کے برابر ہوگی، تاہم سیٹلائٹس کی تعداد بڑھنے کے ساتھ روشنی کی شدت اور دورانیے میں اضافہ کیا جاسکے گا۔

منصوبے کے ممکنہ ماحولیاتی اثرات پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اگست 2025 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں جائزہ لیا گیا کہ خلا سے آنے والی منعکس شدہ روشنی زمین کی فضا سے گزرنے کے بعد کس طرح پھیل سکتی ہے۔

ریفلیکٹ آربیٹل کو جولائی میں امریکی ریگولیٹری ادارے سے منصوبے کے لیے منظوری مل چکی ہے، لیکن ماہرینِ فلکیات اور ماحولیاتی تنظیموں نے اس کی مخالفت کی ہے۔

مزید پڑھیں:اسلام آباد، ہیپاٹائٹس سی کی سکریننگ جاری، ڈھائی فیصد افراد میں پازیٹو

مخالفین نے امریکی فیڈرل کمیونیکیشن کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ منظوری واپس لی جائے۔ ان کے مطابق خلا میں بڑی تعداد میں ایسے سیٹلائٹس کی موجودگی رات کے قدرتی اندھیرے اور فلکیاتی مشاہدات کو متاثر کرسکتی ہے۔