واشنگٹن: (نیوز ڈیسک) ہر تین میں سے دو امریکیوں یعنی تقریباً 67؍ فیصد کی رائے ہے کہ ملک میں جمہوریت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔ کوئین پیاک یونیورسٹی کی جانب سے کرائے جانے والے سروے میں بتایا گیا ہے کہ جنوری میں کرائے گئے ایسے ہی سروے کے بعد موجودہ اعداد میں 9؍ پوائنٹ کا اضافہ ہوا ہے۔ سروے میں شامل عوام کی اکثریت ملک میں جمہوریت کے مستقبل کے بارے میں تشویش رکھتے ہیں ان میں 72؍ فیصد رجسٹرڈ ڈیموکریٹس، 70؍ فیصد رجسٹرڈ ریپبلکنز جبکہ 96؍ فیصد آزاد امیدواروں کی رائے ہے کہ ملک میں جمہوریت کی تباہی ناگزیر ہوگئی ہے۔ علاوہ ازیں، خواتین کی تین چوتھائی تعداد پریشان ہے کہ ملک میں جمہوریت باقی رہے گی یا نہیں جبکہ 58؍ فیصد مردوں (اور سیاہ فام کے مقابلے میں سفید فام کو لگتا ہے کہ) جمہوریت کا زوال شروع ہوگیا ہے۔ سفید اور سیاہ فام کی رائے میں صرف ایک پوائنٹ کا فرق ہے۔ اس نوعیت کی ووٹنگ یا سروے پہلی مرتبہ نہیں کرایا جا رہا جس میں عوام کی تشویش جانچنے کیلئے سوالات کیے گئے ہوں، حالانکہ تکنیکی لحاظ سے دیکھیں تو امریکا آئینی جمہوریت ہے نہ حقیقی جمہوریت۔ گزشتہ ہفتے این بی سی کی جانب سے نیوز چینل کیلئے کرائے گئے سروے میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ ہر پانچ میں سے ایک ووٹر (21؍ فیصد افراد) کی نظر میں جمہوریت کو لاحق خطرات ان کیلئے اولین سطح پر باعث تشویش معاملہ ہے، جبکہ دوسرے اور تیسرے نمبر پر معیارِ زندگی کی بڑھتی قیمت اور معاشی کساد بازاری کو رکھا گیا تھا۔









