اسلام آباد(ممتازنیوز) وفاقی وزیر خزانہ مفتاع اسماعیل نے کہا ہے کہ ملک میں برسوں سے جاری بوم اینڈ بسٹ سائیکل (زیادہ شرح نمو اور پھر معاشی بحران) کو ختم کرنا چاہتا ہوں، ہمیں دہائیوں پرانے طور طریقوں کو بدلنا ہوگا تاکہ قوم کو اپنے وسائل میں رہنے کے سلسلے میں مدد دی جا سکے۔
عالمی جریدے ’’ بلوم برگ‘‘ کو دیئے گئے انٹرویو دیتے ہوئے وزیر خزانہ مفتاع اسماعیل نے کہا کہ درآمدی ادائیگیوں کو ڈالر کی وصولیوں کے مساوی ہونا چاہئے، جس کے لیے طویل عرصے تک پُرتعیش اشیا کی درآمدات پر پابندی ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں ایک ایسے پاکستان کا خواہش مند ہوں جو اپنے وسائل میں رہ سکے تاکہ کسی ادارے سے قرض کی ضرورت ہی پیش نہ آئے، ایک سال میں کچھ نہیں کیا جاسکتا لیکن ہم کام شروع کرسکتے ہیں۔
مفتاح اسماعیل نے توقع ظاہر کی کہ بعض سرکاری کمپنیوں میں 1 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری تقریباً ایک مہینے میں ہو جائے گی۔
مفتاع اسماعیل نے کہا کہ جولائی سے شروع ہونے والے مالی سال کے دوران 3.5 فیصد کی معاشی شرح نمو متوقع ہے جبکہ گذشتہ سال اس کا تخمینہ 5 فیصد لگایا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت گذشتہ 47 سال کے مقابلے میں مہنگائی کی شرح زیادہ ہے جو ایشیائی ممالک میں دوسری سب سے بڑی شرح ہے تاہم یہ اپنی پیک پر ہے اور پیش گوئی کی کہ مہنگائی سال کے لیے اوسطاً 15 فی صد رہے گی۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ سیلاب اور بارشوں کے باعث سبزیوں وغیرہ کی قیمتوں میں ہونے والا اضافہ کم ہو رہا ہے کیونکہ وفاقی حکومت نے ہمسایہ ممالک سے ہنگامی بنیادوں پر سبزیوں کی درآمدات کے اقدامات کئے ہیں۔
مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ گھریلو مصنوعات سے لے کر کاسمیٹکس تک ہر چیز کی درآمدات اور اس کے نتیجے میں ہونے والی ڈالر کی قلت سے بچ کر پاکستان کی ترقی کو تیز کرنا ہے، 1980 کی دہائی کے آخر سے جنوبی ایشیا کے ملک نے آئی ایم ایف سے 13واں بیل آؤٹ لیا ہے۔
مفتاح اسماعیل نے بتایا کہ پاکستان کی درآمدات کو برآمدات اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر کے برابر ہونے کی ضرورت ہے، اسٹیٹ بینک کے ریکارڈ کے مطابق دوسری سہ ماہی میں ترسیلات ریکارڈ سطح پر ہیں۔
مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ اگر ہمارے پاس ڈالر محدود ہیں، تو میں اس بات کو یقینی بناؤں گا کہ ان ڈالر سے گندم خریدوں، اور اپنے لوگوں کےلیے اشیائے خورونوش درآمد کروں، ہم آڈی اور مرسڈیز کاروں کی درآمدات کو مؤخر کرسکتے ہیں۔









