بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

قرضوں میں ریلیف‘، چین کے ساتھ نتیجہ خیز بات چیت ہوئی ، بلاول

اسلام آباد(ممتازنیوز) پاکستان کے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ بدترین سیلاب کے بعد عالمی امدادی سرگرمیاں بڑی طاقتوں کی دشمنیوں اور جیو سٹریٹیجک مسائل کا شکار نہیں ہوگی۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں امریکی وزیر خارجہ کے ریمارکس کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ان کی چین کے ساتھ ’بہت نتیجہ خیز بات چیت‘ ہوئی ہے اور امید کرتے ہیں کہ تاریخ کے بدترین سیلاب کے بعد عالمی امدادی سرگرمیاں بڑی طاقتوں کی دشمنیوں اور جیو سٹرٹیجک مسائل کا شکار نہیں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ امریکہ چاہے گا کہ ہم چین کے اندرونی معاملات پر تبصرہ کریں۔
امریکہ کے وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے پاکستان پر زور دیا تھا کہ وہ اپنے قریبی شراکت دار چین سے قرضوں میں ریلیف طلب کرے کیونکہ سیلاب نے ملک میں تباہی مچائی ہوئی ہے۔
پیر کو واشنگٹن میں پاکستانی وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کے بعد انٹونی بلنکن نے کہا تھا کہ ’ہم ایک سادہ پیغام بھیجتے ہیں۔ ہم یہاں پاکستان کے لیے ہیں، جیسا کہ ہم ماضی کی قدرتی آفات کے دوران تھے۔
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ’اگر ہم ان تنازعات پر توجہ دینا شروع کر دیں جنہیں اقوام متحدہ جیسے اداروں نے بین الاقوامی نوعیت کے تنازعات کے طور پر تسلیم کیا ہے تو یہ زیادہ نتیجہ خیز ہوگا۔‘
پاکستان کے وزیر خارجہ کشمیر کا حوالہ دے رہے تھے جو انڈیا اور پاکستان کے درمیان تین جنگوں کا باعث بن چکا ہے۔
انڈین وزیراعظم نریندر مودی نے 2019 میں کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ کر دیا تھا۔ اس کے بعد دیگر انڈین شہریوں کے لیے کشمیر میں رہائش اور جائیدادیں خریدنے کا راستہ کُھل گیا تھا۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ 2010 میں ان کی پارٹی کی حکومت نے انڈیا کے ساتھ تجارت شروع کی تھی۔ اس وقت انڈیا میں من موہن سنگھ وزیراعظم تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم سیاسی خطرہ مول لینے کے لیے تیار تھے کیونکہ ہم جانتے تھے کہ وہاں ایک معقول شخص موجود ہے جو ہمیں مثبت جواب دے گا تاہم ’بدقسمتی سے آج وہ گنجائش موجود نہیں۔ یہ ایک مختلف انڈیا ہے۔‘
افغانستان کے حوالے سے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر پھر سے افغانستان کے موجودہ حکمرانوں کو تنہا کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔
انہوں نے کہاکہ ہم نے ماضی سے سیکھا ہے کہ جب ہم اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرتے اور اس کو نظر انداز کرتے ہیں تو ہم اپنے لیے غیر ارادی طور پر منفی نتائج اور مزید مسائل پیدا کر رہے ہوتے ہیں۔