بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بھارتی سپریم کورٹ حجاب پر پابندی پر تقسیم

نئی دہلی(ممتازنیوز) بھارتی سپریم کورٹ کا بنچ تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی کے حکومتی فیصلے پر تقسیم ہوگیا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق جسٹس ہیمنت گپتا اور جسٹس سدھا نشو دھولیہ پر مشتمل بھارتی سپریم کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے کرناٹک کے تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی کے حکومتی فیصلے کے خلاف درخواستوں پر سماعت کی۔
فریقین کے دلائل سننے کے بعد بینچ کے ایک جج نے پابندی کو برقرار رکھتے ہوئے مسلم طالبات کی درخواستیں خارج کردیں جب کہ حجاب پر پابندی کو مسترد کرتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا۔
جسٹس ہیمنت گپتا نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ وہ حجاب پر پابندی سے متعلق کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے سے متفق ہیں۔
جسٹس سدھا نشو دھولیہ نے اپنے فیصلے میں تحریر کیا کہ حجاب پہننا مسلم طالبات کی پسند کا معاملہ ہے۔ حجاب پر پابندی تعلیم اور بہتر زندگی کی راہ میں حائل ہو رہی ہے، اس لئے تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی نہیں لگائی جاسکتی۔
عدالتی بینچ نے معاملے کو بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس یو یو للت کے سپرد کر دیا۔ جو اس معاملے کی مزید سماعت کے لئے نیا بینچ تشکیل دیں گے۔
رواں برس کے اوائل میں کرناٹک کے کالجز میں مسلم طالبات کے حجاب پہننے پر تنازع پیدا ہوا تھا۔ مسلم طالبات کالجز میں حجاب پہن کر تعلیم حاصل کرنا چاہتی تھیں لیکن ریاستی حکومت نے تعلیمی اداروں میں حجاب پہننے پر پابندی عائد کر دی۔
حجاب پر پابندی کے خلاف کرناٹک ہائی کورٹ میں درخواستیں دائر کی تھیں لیکن ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں حکومت کے فیصلے کو برقرار رکھا تھا۔
ہائی کورٹ نے اس معاملے کو عدالت کے دائرہ کار سے باہر قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ حجاب اسلام کا لازمی جز نہیں ہے۔
بعد ازاں مسلم طالبات پابندی کے خلاف سپریم کورٹ گئیں جہاں مسلمانوں کی جانب سے کم از کم 21 وکلا نے درخواست کے حق میں دلائل دیئے۔
مسلمان طالبات کے وکلا نے عدالت کے روبرو واضح کیا کہ حجاب پا پابندی کا فیصلہ خالصتاً مذہبی دشمنی ہے کیونکہ حجاب پر تو پابندی عائد کردی گئی لیکن دیگر مذاہب کی مذہبی شناختوں پر کوئی پابندی نہیں لگائی۔