بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

دنیا نے کرپشن کیخلاف عالمی کنونشن 2003 میں جاری کیا،پاکستان میں قانون1947 سے ہے ،جسٹس منصور علی شاہ

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پرجسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ دنیا نے کرپشن کیخلاف عالمی کنونشن 2003 میں جاری کیا،مثبت چیز یہ ہے پاکستان میں کرپشن کیخلاف قانون1947 سے ہے ۔

نجی ٹی کے مطابق سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت ہوئی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں بنچ نے درخواست کی سماعت کی ،جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ جنسی ہراسگی سمیت ہمارے کئی قوانین میں خامیاں ہیں ،کیا عدالت بین الاقوامی کنونشنزکے مطابق قانون سازی کی ہدایت کر سکتی ہے؟اگر عدالت ہدایات دے بھی تو پارلیمان کس حد تک ان کی پابند ہو گی؟

وکیل عمران خان نے کہاکہ عدالت کئی مقدمات میں پارلیمان کو ہدایات جاری کر چکی ہے،عدالت نے کئی قوانین کی تشریح بین الاقوامی کنونشنز کے تناظر میں کی ہے،چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ عالمی کنونشن میں نجی افراد کی کرپشن کا بھی تذکرہ ہے،نجی شخصیات میں کنسلٹنٹ، سپلائر اور ٹھیکیدار بھی ہو سکتے ہیں،نجی افراد اور کمپنیاں حکومت کو غلط رپورٹس بھی دے سکتی ہیں ۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ کیا کسی دوسرے ملک نے عالمی کنونشن کے مطابق کرپشن قانون بنایا؟خواجہ حارث نے کہاکہ کسی دوسرے ملک کے کرپشن قانون کا جائزہ نہیں لیا،عالمی کنونشن میں درج جرائم پاکستانی قانون میں شامل تھے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ دنیا نے کرپشن کیخلاف عالمی کنونشن 2003 میں جاری کیا،مثبت چیز یہ ہے پاکستان میں کرپشن کیخلاف قانون1947 سے ہے ۔

جسٹس اعجا ز الاحسن نے کہاکوئی ایسی شق جس کے تحت میوچل لیگل اسسٹنس کو قابل قبول کہا گیا ہو،خواجہ حارث نے کہاکہ قابل قبول شواہد کے حوالے سے باقاعدہ قانون ہے،ایک طریقہ کار کے تحت آنے والے قوانین کو ہی جانا جاتا ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ کوئی کنونشن مقامی قانون میں خامیاں دور کرنے کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے، کیا ترامیم سے پہلے قانون کنونشن سے مکمل مطابقت رکھتا تھا،عمران خان کے وکیل خواجہ حارث نے کہاکہ اب یہ ایک کمزور قانون ہے، ایسے دنیا میں ہماری ساکھ نہیں رہے گی،جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ یہ ساری تویو این میں کرنے والی باتیں ہیں ۔