کراچی(نیوز ڈیسک)ڈی جی آئی ایس آئی کی پریس کانفرنس کے بعد پورا ملک حالت حیرت میں ہے کہ ایسا کیا ہوا کہ ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ندیم انجم کو خود آنا پڑا اور میڈیا کو تمام حالات سے آگاہ کرنا پڑا۔ اس سلسلے میں اہم عسکری ذرائع نے بتایا کہ حالات نے ڈی جی ISI کو میڈیا پہ آنے پر مجبور کردیا.
ذرائع نے بتایا کہ جب ملک حالت جنگ میں ہو تو سپاہی اور افسر سب میدان میں آجاتے ہیں ، سری لنکا کی مثال دیکر سرمایہ کاروں کو روکا جارہا ہے، فیٹیف کامیابی کو ناکامی میں بدلنے، جوہری اثاثے غیر محفوظ قرار دینے کی کوششیں ، غدارکے فتوے بانٹے جارہے ہیں ، اللّٰہ، رسول کا نام لیکر مسلسل جھوٹ بولا جارہا ہے.
فوج سے سوال تھا خاموش کیوں ہے ؟ اس لئے جواب دینا ضروری تھا ، کوشش تھی عمران کے انتشار کو خاموشی سے روکیں، حد سے گذرنے پر پریس کانفرنس کرنا پڑی۔ انتہائی اہم عسکری ذرائع سے بات کی تو انہوں نے ہمیں متعدد ایسی وجوہات بتائیں کہ جس کی وجہ سے جنرل ندیم انجم کو خود آکر بات کرنا پڑی ۔
عسکری ذرائع نے ہمیں تفصیل سے جواب دیتے ہوئے کہا کہ حالت جنگ کسے کہتے ہیں ایسا ماحول جس سے ریاست کی بقا کو خطرہ ہو جب ریاست حالت جنگ میں ہو تو عوام اور فوج ملکر اس کا مقابلہ کرتے ہیں چاہے سپاہی ہو یا سینئر ترین آفیسر سب میدان میں اُتر جاتے ہیں، آج سوال پوچھا جارہا ہے کہ ڈی جی آئی ایس آئی کو خود کیوں میڈیا کے سامنے آنا پڑا اس کا جواب اس سوال میں ہی چھپا ہے ، ایک ایسا آفیسر جس نے اپنی تصویر تک دکھانے پر پابندی لگائی تھی کیوں اتنا بڑا قدم اُٹھانے پر مجبور ہوا ، صرف اس لئے کہ ملک ایک مشکل وقت میں ہے.
ارشد شریف کے قتل پر پاک فوج کے خلاف بیانیہ بناکر دنیا میں بدنام کرنے کی کوشش ہورہی ہے ، فیٹف کی کامیابی کو ناکامی میں بدلے جانے کی کوشش ہورہی ہے ، جوہری اثاثہ کو غیر محفوظ قرار دینے کی کوشش ہورہی ہے.
ملک کو ایک ناکام اور دہشت گرد ملک بناکر پیش کرنے کی کوشش ہورہی ہے ، سائفر کے نام پر دوستوں کو دشمن بنانے کی کوشش ہورہی ہے ، مذہب کے جھوٹے نعرے لگاکر قوم کو بانٹنےاور کاٹنے کی کوشش ہورہی ہے .
روزانہ ایک نیا شوشہ چھوڑ کر معیشت کو تباہ کرنے کی کوشش ہورہی ہے، بار بار سری لنکا کی مثال دے کر سرمایہ کاری کو روکنے کی کوشش ہورہی ہے ،اپنی ہی فوج کو طرح طرح کے ناموں سے پکار کر شرمندہ کیا جارہا ہے.
آٹھ مہینے سے صبر کا مظاہرہ کرنے والوں پر الزام لگاۓ جارہے ہیں، بڑے عہدیداروں سے جھوٹے بیانات منسوب کرکے گمراہ کیا جارہا ہے، اللّٰہ رسول کا نام لے کر مسلسل جھوٹ بولا جارہا ہے، غداری وطن دشمنی کے فتوے بانٹے جارہے ہیں، ساتھ نہ دینے والوں کو بدترین دھمکیاں دے رہے ہیں .
دوسری طرف فوج سے سوال کیا جاتا تھا کہ وہ خاموش کیوں ہیں کیا وہ ڈر گئے ہیں یا پس پردہ وہ بھی اس بیانیہ کا حصہ ہیں ان سب باتوں کا جواب دینا تھا مگر اُس سے پہلے ہر ممکن کوشش کی گئی کہ عمران خان جو انتشار پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں اُس سے انہیں خاموشی سے ہی روکا جاۓ اور امن امان یقینی بنایا جائے مگر جب بات حد سے گزرگئی تو یہ قدم اُٹھانا پڑا وطن کی خاطر عوام کی خاطر.
ذرائع نے بتایا کہ لانگ مارچ میں ان ہی کے لوگوں کے مطابق خون خرابا ہوگا لوگ مریں گے لاشیں گریں گی اگر خدانخواستہ کچھ ہوا تو ذمہ داری فوج پر ڈال دی جاۓ گی اور بدنام کرنا شروع کردیں گے اور یہ ہی اصل سازش ہے کیونکہ عمران خان کو اقتدار نہیں چاہیے، انہیں پتہ ہے کہ وہ ملک کا جو حال کرکے گئے ہیں.
اس کے بعد اُن کے لیے ملک چلانا ناممکن نہیں ہوگا خاص طور پر تب جب انہیں فوج کی مدد حاصل نہ ہو اور ادارے اُن سے متنفر ہوں ، اب قوم خود سوچے اس موقع پر لوگوں کو مرنے سے بچانا اور ملک کو انتشار سے بچانا کیا بزدلی ہے سودے بازی ہے کمزوری ہے یا بہادری کہ اپنے عہدوں کو پس پشت ڈال کر قوم کو سچ بتانے کے لئے سینئر آفیسرز سامنے آئے تاکہ قوم کو معاملے کی سنگینی اور حساسیت کا ادراک ہو اور ہم تو سپاہی ہیں لڑتے رہیں گے ہر محاذ پر ہر وطن دشمن سے ۔ دوسری طرف عمران خان اعلی عہدےداروں کا نام لے کر جھوٹے بیانات دے رہے تھے اس لیے براہ راست جواب دینا ضروری تھا۔









