وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف نے پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کو پتھر دل قرار دیتے ہوئے کچھ قصے بیان کئے، جن میں انہوں نے نواز شریف اور عمران خان کے مشترکہ دوست ”ٹومو“ کا ذکر کیا۔
وزیراعظم نے بتایا کہ ”ایک آدمی جس کا نام تھا طلعت محمود ان کا نک نیم تھا ’ٹومو“، وہ میاں نواز شریف کے کلاس فیلو تھے اور عمران نیازی کے جگری یار تھے۔“
”ٹومو، میاں نواز شریف اور عمران خان نیازی اکٹھے جم خانے میں کرکٹ کھیلتے تھے۔ اس کی شکل، چہرہ، بال اور قد عمران خان سے ملتے جلتے تھے۔“
وزیراعظم نے کہا کہ ”وہ (ٹومو) یوبی ایل میں بینکر تھے، اور میرٹ پر کوآپریٹیو بینک کے چئیرمین لگ گئے، عمران نیازی اس سے بڑے ناراض ہوئے کہ تم کیوں لگے ہو۔“
”بعد میں جب میاں نواز شریف کی حکومت آئی تو ایگریکلچرل بینک کے چیئرمین لگ گئے اور اپنی میرٹ پر لگے، عمران نیازی پھر ناراض ہوئے۔“
شہباز شریف نے کہا کہ ”ان کو کینسرہوگیا، عمران نیازی نے ان کے خلاف نیب میں کیس بنوا دیا تھا اور ای سی ایل پر رکھا ہوا تھا۔“
شہباز شریف کے مطابق، ”جب ڈاکٹر نے کہا کہ آپ (ٹومو) کا کیس بہت سیرئیس ہے آپ باہر جائیں ورنہ آپ کا یہ کینسر پھیل جائے گا تو کچھ دوستوں نے کہا عمران نیازی کو آپ کہو۔ تو انہوں نے کہا میں نے نہیں کہنا، اس کو نہیں پتا؟ اس نے تو مجھے ای سی ایل پر رکھا ہوا ہے۔“
وزیراعظم نے بتایا کہ ”دوستوں نے کہا، عِمّی، وہ بہت بیمار ہے اس کو آپ باہر جانے دیں، کوئی جواب نہیں۔۔۔“
شہباز شریف کہتے ہیں کہ ”آخری دن یا دو دن پہلے، اللہ اس کو جنت نصیب کرے ٹومو کو، میرے بھی بڑے جاننے والے تھے۔ انہوں نے پھر عمران نیازی کو خود کہا کہ عمی میں بہت بیمار ہوں مجھے باہر جانے دیں، تو جس دن ان کا انتقال ہوا اس روزان کو ای سی ایل سے نکالا اور اگلے دن ٹویٹ آگئی کہ میرا بچپن کا دوست ٹومو اللہ کو پیارا ہوگیا۔“









