بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

پنجاب حکومت فوری FIR درج کرے، عمران کو مناسب تحفظ فراہم کرنے میں نااہلی واضح اور غفلت مجرمانہ ہے، وفاقی حکومت کا چیف سیکرٹری پنجاب کو خط

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وفاقی حکومت نے اپنی وزارت داخلہ کے ذریعے پنجاب حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ عمران خان پر ہونے والے قاتلانہ حملے کی ایف آئی آر جلد از جلد واقعے کے حقائق کے مطابق درج کرے نہ کہ قیاس آرائیوں یا اندازوں پر مبنی الزامات کے مطابق۔ وفاقی حکومت نے اس بات کی نشاندہی بھی کی ہے کہ صوبائی حکومت نہ صرف سابق وزیراعظم کو مناسب سیکورٹی فراہم کرنے میں ناکام رہی

بلکہ کاررواں کے حوالے سے ایس او پیز پر عمل کرنے کے معاملے میں بھی واضح کوتاہی نظر آئی۔سینئرصحافی انصارعباسی کےمطابق چیف سیکریٹری پنجاب کو لکھے گئے خط میں وزارت داخلہ نے صوبائی حکومت کو ہائی پروفائل کیس سے نمٹنے کے معاملے میں اپنے شدید تحفظات سے آگاہ کیا ہے۔

وفاقی حکومت نے اس حیرانی کا اظہار کیا ہے کہ اس واقعے کی ایف آئی آر اب تک درج نہیں کی جا سکی حالانکہ عمومی حالات میں واقعے کے 24؍ گھنٹے کے اندر ہی پرچہ کاٹا جاتا ہے۔

5؍ نومبر کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ واقعہ صوبائی پولیس کے اہلکاروں کی موجودگی میں ہونے کے باوجود پرچہ نہ کاٹا جانا صوبائی حکومت کی کمزوری کا اشارہ ہے۔

خط میں مزید لکھا ہے،’’واقعے کے بعد صوبائی حکومت نے واقعے یا سابق وزیراعظم کو مناسب سیکورٹی فراہم کرنے اور کاررواں کے متعلق ایس او پیز پر عمل نہ کیے جانے کے حوالے سے کسی طرح کی وضاحت پیش کرنے میں بھی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا۔

وفاقی حکومت اس بات کو بھی دیکھ رہی ہے کہ تاحال سابق وزیراعظم کا میڈیکو لیگل بھی نہیں ہوا۔ یہ انتہائی تشویش ناک بات ہے کہ صوبائی حکومت جرم میں استعمال ہونے والے اسلحے کے حوالے سے بھی کوئی معلومات نہیں دے پائی اور یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ اس اسلحے کا فارنزک جائزہ لیا گیا ہے یا نہیں۔

مزید برآں، کئی گھنٹوں تک جائے وقوع کو بھی محفوظ نہیں کیا جا سکا جو طے شدہ ضوابط کی خلاف ورزی ہے۔ علاوہ ازیں، متاثرین کے زخموں کی نوعیت کے حوالے سے بھی کوئی معلومات جاری نہیں کی گئیں۔

مبینہ حملہ آور کے ’’اعترافِ جرم‘‘ کی ویڈیو جاری ہونے کے معاملے میں بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ تحقیقات کے عمل میں کس قدر خامیاں ہیں۔ صوبائی حکومت اور اس کے اداروں کی مذکورہ بالا ناکامیاں معاملے سے نمٹنے میں نا اہلی کو واضح کرتی ہیں اور یہ مجرمانہ غفلت ہے۔‘‘

وفاقی حکومت کے مطابق، ’’واقعے کے بعد صوبے میں قانون اور امن عامہ کی صورتحال سے بھی موثر انداز سے نہیں نمٹا گیا جس کی وجہ سے عام عوام کیلئے مسائل پیدا ہوئے۔

شر پسندوں کے چھوٹے گروہوں کی جانب سے مرکزی شاہراہوں اور سڑکوں کی بندش سے پنجاب کے کئی شہروں میں کاروبارِ زندگی ٹھپ گہوگیا اور ساتھ ہی بین الاضلاع نقل و حرکت بھی بند ہوگئی۔ صوبائی پولیس اور انتظامیہ کی نا اہلی کی وجہ سے نقل و حرکت کی اُس آزادی پر قدغن لگی جس کی ضمانت آئین کے آرٹیکل 15؍ میں دی گئی ہے۔

شر پسندوں کی جانب سے لاہور میں گورنر ہاؤس پر حملے سے مزید واضح ہو جاتا ہے کہ صوبائی حکومت نے صورتحال سے نمٹنے میں غفلت دکھائی کیونکہ صوبائی حکومت صوبے کے اعلیٰ ترین عہدیدار کے دفتر اور رہائش گاہ کے تحفظ میں ناکام دکھائی دی۔

مذکورہ بالا باتوں کی روشنی میں، یہ ضروری ہے کہ صوبائی حکومت فوری طور پر مستعدی دکھاتے ہوئے صوبے میں تمام شہریوں کے جان و مال کی حفاظت کیلئے اقدامات کو یقینی بنائے۔ وزیر آباد میں ہونے والے واقعے کے تناظر میں سی آر پی سی 1898ء کی شق نمبر 154؍ کے تحت ایس ایچ او اور سی ٹی ڈی پنجاب کی مدعیت میں حقائق اور میرٹ کی بنیاد پر نہ کہ قیاس آرائیوں یا مبینہ الزامات کی روشنی میں فوری ایف آئی آر کاٹی جائے اور مزید وقت ضایع نہ کیا جائے کیونکہ اس معاملے میں تاخیر غیر قانونی ہے اور اس سے ملزم کیخلاف قانونی کارروائی کرنے کے معاملے میں پہلے ہی ناقابل تلافی نقصان ہو چکا ہے۔‘‘