راولپنڈی(نمائندہ خصوصی)چیئرمین قمرجہاں فاؤنڈیشن و صدر پاکستان گرین ٹاسک فورس ڈاکٹر جمال ناصر نے کہا ہے کہ نوجوان نسل کواقبال ؒ کے افکار و نظریات سے روشناس کرانے کی اشدضرورت ہے،اقبال ؒنے اپنے پیغام میں نوجوان نسل کو عملی زندگی میں کامیابی و کامرانی کے لئے ایک عزم و حوصلہ عطا کیا ہے،بدقسمتی سے ہمارے نوجوانوں نے پیغام اقبال ؒ کوسمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی،آج ترکی اور ایران میں اقبال ؒ کی تعلیمات و افکار سے استفادہ کیا جارہا ہے جبکہ ہمارے نوجوان فکر اقبالؒ سے دور ہو تے جا رہے ہیں۔جدید ٹیکنالوجی کے دور میں نوجوانوں کوسوشل میڈیا اور کمپیوٹر کی صورت میں بے پناہ سہولیات حاصل ہے،یہ بات خوش آئند ہے کہ نوجوان جدیدعلوم و فنون کے ذریعے اپنے علم و ہنر کو جلا بخشتے ہیں۔آج کی اس ڈیجیٹل نمائش میں رکھے گئے فن پارے لائق تحسین ہے۔طلبہ و طالبات نے اقبالؒ کے فلسفے کو ”ڈیجیٹل آرٹ“کی صورت میں بہت ہی خوبصورت انداز میں اجاگر کیا ہے۔نوجوانوں کی ان کاوشوں کی جس قدر تعریف کی جائے کم ہے۔نوجوان کو چاہئے کہ وہ تعلیم کے ساتھ ساتھ دیگر مثبت سرگرمیوں پر توجہ دیں تاکہ وہ اس ملک کا کارآمد شہر ی بن کر ملک و ملت کا نام روشن کر سکیں۔ان خیالا ت کا اظہار چیئرمین قمرجہاں فاؤنڈیشن و صدر پاکستان گرین ٹاسک فورس ڈاکٹر جمال ناصر نے پنجاب آرٹس کونسل کے زیر اہتمام منعقدہ ”ڈیجیٹل آرٹ ایگزیبیشن“کے افتتاح کے موقع پر منعقدہ تقریب میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔نمائش میں رکھے گئے طلبہ و طالبات فن پارے بے شمار لوگوں نے دیکھے اور سراہا۔ وقار علی نے”ڈیجیٹل آرٹ“ میں حصہ لینے والوں کی تربیت و رہنمائی کا فریضہ ادا کیا۔تقریب سے پنجاب آرٹس کونسل کے ڈائریکٹر وقار احمد نے بھی اظہا رخیال کیا اور کہا کہ حکومت پنجاب کی ہدایت کی روشنی میں فن و ثقافت کے فروغ کیلئے آرٹس کونسل وقتعاًفوقعتامختلف نوعیت کے پروگرام کرواتی ہے۔اس ہفتے علامہ اقبال ؒ کے حوالے سے متعدد پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔نوجوانوں کی صلاحیتوں کو جلا بخشنے کیلئے آرٹس کونسل ہر ممکن اقدامات اٹھاتی ہے۔الحمد للہ! ہر مکتب فکر کے لوگ ہمارے پروگراموں میں شرکت کرتے ہیں۔ہمارا آج کاپروگرام بھی ’ڈیجیٹل آرٹ“میں دلچسپی رکھنے والے طلبہ و طالبات کی حوصلہ افزائی ہی ہے۔پروگرام کے آخر میں ”ڈیجیٹل آرٹ“کی صورت میں علامہ اقبال ؒ کے فلسفے کو اجاگر کرنے کیلئے فن پارے پیش کرنے والے ماہ نور سید،ربیعہ سلیم،ثناء کنول،میمونہ ظفر،فہد علی، احمد بلال،عثمان خان، میراجمل و دیگر طلبہ و طالبات میں اسناد تقسیم کی گئیں۔










