اسلام آباد : پاکستان میں تعینات ترکمانستان کے سفیر اور ڈپلومیٹک کور کے ڈین عطاجان مولاموف نے کہا کہ ترکمانستان اور پاکستان کے درمیان دوطرفہ تجارت کو فروغ دینے کے وسیع امکانات موجود ہیں جنہیں عوامی رابطوں میں اضافہ کر کے بہتر فروغ دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترکمانستان توانائی سے مالا مال ہے اور پاکستان کی توانائی کی ضروریات پوری کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترکمانستان سمندر کے ذریعے مزید رسائی چاہتا ہے کیونکہ یہ ایک لینڈ لاک ملک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرانزٹ ٹریڈ ان کے ملک کے لیے بہت اہم ہے کیونکہ ترکمانستان کیلئے تجارت کا مختصر ترین راستہ کراچی اور گوادر بندرگاہوں کے ذریعے ہو سکتا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے دورے کے موقع پر تاجر برادری سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
سفیر نے کہا کہ ترکمانستان انتہائی سستی بجلی پیدا کر رہا ہے اور تاپی منصوبے کے بارے میں تاجر برادری کو تفصیلی پریزنٹیشن دی۔ انہوں نے کہا کہ تاپی منصوبہ پاکستان کو اپنی بڑھتی ہوئی آبادی کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں مدد کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو بحیرہ عرب کے راستے آپٹیکل فائبر کیبل کے ذریعے جوڑا جائے جبکہ پاکستان اس سے کروڑوں ڈالر کا فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک اپنے سفارتی تعلقات کے 30 سال منا رہے ہیں جبکہ ترکمانستان تجارت اور سرمایہ کاری کے ذریعے پاکستان کے ساتھ ان تعلقات کو مزید مضبوط بنانا چاہتا ہے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر احسن ظفر بختاوری نے کہا کہ پاکستان اور ترکمانستان کے درمیان باہمی احترام پر مبنی خوشگوار تعلقات قائم ہیں جن سے فائدہ اٹھا کر دوطرفہ تجارتی اور اقتصادی تعلقات کو بہتر فروغ دیا جائے کیونکہ دونوں ممالک متعدد شعبوں میں ایک دوسرے کے ساتھ تجارت کرنے کی عمدہ صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترکمانستان کے سرمایہ کار سی پیک میں جوائنٹ وینچرز و سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کریں جس سے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی و تجارتی تعلقات مضبوط ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکمانستان ہوائی، روڈ اور ریلوے روابط قائم کرنے کی کوشش کریں جس سے نہ صرف تجارت میں اضافہ ہو گا بلکہ سنٹرل ایشیا کے ساتھ پاکستان کے تجارتی تعلقات مضبوط ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک ایک ٹرانسپورٹ کمپنی کے قیام پر غور کریں جس سے تجارت بہتر فروغ پائے گی۔انہوں نے کہا کہ استنبول، ترکمانستان اور کراچی کے درمیان روڈ لنک قائم کیا جائے جس سے پچاس کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی مال بردار گاڑی صرف چھ دن میں پہنچ سکتی ہے جبکہ سمندر کے ذریعے تجارتی مال کو پہنچنے میں تقریبا 35دن لگتے ہیں اور اس کا کرایہ بھی بہت زیادہ پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکمانستان باقاعدگی کے ساتھ تجارتی وفود کا تبادلہ کریں اور ایک دوسرے کے ملک میں تجارتی نمائشوں کا انعقاد کرنے پر توجہ دیں جس سے تجارتی تعلقات کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔
چیمبر کے سینئر نائب صدر فاد وحید نے کہا کہ چیمبر ای سی او بزنس فورم منعقد کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے جس میں سفارت کاروں اور متعلقہ سرکاری حکام کو تاپی منصوبے اور پاکستان و ترکمانستان کے درمیان براہ راست روابط بڑھانے سمیت دیگر اہم امور پر بات چیت کے لیے مدعو کیا جائے گا۔ اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدور، ایگزیکٹو ممبرز اور ممبران کی ایک بڑی تعداد نے اجلاس میں شرکت کی۔
ترکمانستان کے سفیر کا اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا دورہ








