ٹوئٹر کی جانب سے کووڈ 19 کے حوالے سے گمراہ کن مواد پوسٹ کیے جانے پر اب کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم کی جانب سے خاموشی سے کووڈ 19 مس انفارمیشن پالیسی کو ختم کردیا گیا ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق کمپنی نے 23 نومبر 2022 کو کووڈ پالیسی پر عملدرآمد روک دیا تھا مگر اس کا علم 28 نومبر کو صارفین کو ہوا۔
اب ٹوئٹر کی جانب سے کووڈ 19 ویکسینز کی افادیت اور محفوظ ہونے کے حوالے سے جعلی دعوؤں پر مبنی پوسٹس پر کوئی ایکشن نہیں لیا جائے گا۔
Twitter has quietly changed their policies to allow COVID-19 misinformation. This change will literally kill people.https://t.co/qtNS6Xeq7A pic.twitter.com/8AEXiAPS9V
— Dr. Lucky Tran (@luckytran) November 29, 2022
خیال رہے کہ ٹوئٹر کے نئے مالک ایلون مسک خود اس سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اس وبائی مرض کے بارے میں گمراہ کن مواد شیئر کرچکے ہیں۔
گزشتہ دنوں ایلون مسک نے ٹوئٹر میں بلاک کیے گئے اکاؤنٹس کو عام معافی دینے کا اعلان کیا تھا اور کووڈ کے بارے میں افواہیں پھیلانے والے اکاؤنٹس کو بحال کردیا تھا۔
ٹوئٹر کی جانب سے جنوری 2020 میں کووڈ پالیسی کا نفاذ کیا تھا جس کا مقصد سوشل میڈیا پلیٹ فارم میں وبائی مرض کے حوالے سے نقصان دہ مواد کو پھیلنے سے روکنا تھا۔
اس کے بعد سے 11 ہزار اکاؤنٹس کو قوانین کی خلاف ورزی پر معطل کیا گیا جبکہ ایک لاکھ کے قریب پوسٹس ڈیلیٹ کی گئی۔









