رینسم ویئر گروپ ورلڈ لیکس نے بھارت کے سب سے بڑے جوہری پاور پلانٹ کڈنکولم سے متعلق بڑی تعداد میں ڈیٹا ڈارک ویب پر شائع کردیا۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق لیک ہونے والے ڈیٹا میں مبینہ طور پر تنصیبات کے کچھ حصوں کے نقشے اور سپلائرز کی تفصیلات شامل ہیں جبکہ ہیکرز کے گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ معلومات ریلائنس گروپ سے حاصل کی گئی ہیں۔
خبر رساں ایجنسی کے مطابق کڈنکولم نیوکلیئر پاور پلانٹ بھارتی ریاست تمل ناڈو میں واقع ہے اور یہ بھارت کے 7 جوہری پلانٹس میں سب سے بڑا ہے جبکہ یہ وزیراعظم نریندر مودی کے ملک میں جوہری توانائی کی صلاحیت بڑھانے کے منصوبے کا مرکزی حصہ ہے۔
اس پلانٹ کا ٹھیکہ بھارتی کاروباری شخصیت انیل امبانی کے ریلائنس گروپ کے پاس ہے جس نے رائٹرز کو جاری بیان میں کہا کہ ڈیٹا سینٹر سروس فراہم کرنے والی کمپنی یوٹا کے سرور پر ریلائنس کے ڈیٹا میں جزوی دراندازی ہوئی ہے اور اس واقعے سے حکومت کو آگاہ کر دیا گیا ہے، تاہم ریلائنس نے یہ نہیں بتایا کہ کون سا ڈیٹا متاثر ہوا۔
نیوکلیئر تھریٹ انیشیٹو کے سینئر ڈائریکٹر نکولس روتھ کا کہنا ہے کہ یہ ڈیٹا لیک پلانٹ کی سکیورٹی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔ لیک ہونے والے ڈیٹا میں مبینہ طور پر تنصیبات کے کچھ نقشے، سپلائرز کی تفصیلات، اجلاسوں اور معائنوں کا ریکارڈ، آلات کے جائزے اور انشورنس پالیسیز شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ریلائنس کی لیک ہونے والی 8 لاکھ 58 ہزار فائلز میں سے 19 ہزار فائلیں سب سے زیادہ حساس معلوم ہوتی ہیں جو ورلڈ لیکس کی ویب سائٹ پر موجود ہیں۔
ریلائنس انفراسٹرکچر، جو اس گروپ کی ذیلی کمپنی ہے نے 2018 میں پلانٹ کے یونٹ 3 اور یونٹ 4 کے لیے انفراسٹرکچر ڈیزائن اور تعمیر کا ٹھیکہ حاصل کیا تھا۔ یہ دونوں یونٹس تاحال زیر تعمیر ہیں اور 2027 تک فعال ہونے کی توقع ہے، یہ یونٹس مجموعی طور پر 2 ہزار میگاواٹ بجلی فراہم کریں گے۔
خبررساں ایجنسی کے مطابق ورلڈ لیکس رینسم ویئر گروپ ہے اور اس سے قبل Nike اور ٹاٹا گروپ کو نشانہ بنا چکا ہے۔ یہ گروپ عموماً کمپنیوں کی جانب سے تاوان ادا نہ کرنے پر چوری شدہ ڈیٹا اپنی ویب سائٹ پر جاری کر دیتا ہے جس تک رسائی خصوصی براؤزر کے ذریعے ہی ممکن ہوتی ہے۔
جون میں ورلڈ لیکس نے رائٹرز کو بتایا تھا کہ اس نے ٹاٹا گروپ کی فائلوں کے بدلے 15 لاکھ ڈالر تاوان طلب کیا تھا، ان فائلز میں ایپل اور ٹیسلا جیسے کلائنٹس کے خفیہ ڈیزائن شامل تھے اور تاوان کا مطالبہ مسترد ہونے پر ڈیٹا ویب سائٹ پر جاری کر دیا گیا تھا۔
ورلڈ لیکس کی ویب سائٹ پر جاری دستاویزات بظاہر جوہری ری ایکٹرز کے بنیادی نظام سے متعلق نہیں تاہم ان میں یونٹ 3 اور یونٹ 4 کے وینٹیلیشن اور کولنگ سسٹمز کے نقشے اور ایک کنٹرول روم کا نقشہ بھی شامل ہے۔
فائلوں میں سپلائرز کی تجاویز، منظور شدہ سپلائرز کی فہرست اور 2024 میں نیوکلیئر پاور کارپوریشن اور ریلائنس کے مشترکہ معائنے سے متعلق اجلاس کا ریکارڈ بھی شامل ہے جس میں آلات کی تصاویر بھی موجود ہیں۔
ایک اور دستاویز کے مطابق ریلائنس انفراسٹرکچر اور نیوکلیئر پاور کارپوریشن نے ایک انشورنس پالیسی بھی حاصل کر رکھی ہے جس کے تحت اگر یونٹ 3 یا یونٹ 4 دہشت گردی کا نشانہ بنتے ہیں تو انہیں 112 ملین ڈالر تک کا معاوضہ مل سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ ڈیٹا غلط ہاتھوں میں چلا جائے تو اس سے پلانٹ کے معاون نظاموں کا نقشہ بنایا جا سکتا ہے، سپلائرز کی شناخت کی جا سکتی ہے اور سکیورٹی میں موجود کمزوریوں کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
مزید پڑھیں:موبائل فونز پر 60 فیصد ٹیکس بہت زیادہ، ہمیں خود نہیں معلوم کس فون پر کتنا ٹیکس ہے، پی ٹی اے
نکولس روتھ کے مطابق یہ ڈیٹا صرف یہ نہیں دکھاتا کہ کس کو اس منصوبے تک رسائی حاصل ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ اس رسائی کے ذریعے کن سسٹمز تک پہنچا جاسکتا ہے۔سائبر سکیورٹی کمپنی سرفشارک کے مطابق بھارت دنیا میں ڈیٹا لیک کے حوالے سے تیسرے نمبر پر ہے۔









