بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

پنجاب، بیوٹی کریمز میں پارہ، 3 مخصوص مصنوعات کے بیچز واپس منگوا لیے گئے

پنجاب کے ڈرگ ریگولیٹر نے لیبارٹری ٹیسٹ میں امونیٹڈ مرکری پائے جانے پر گولڈن پرل، فائزہ اور جھلک بیوٹی کریموں کے مخصوص بیچز واپس منگوانے کا حکم دے دیا ہے۔

واٹس ایپ پر گردش کرنے والے ایک پیغام میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پنجاب کے ڈرگ ریگولیٹر نے مارکیٹ سے بیوٹی کریموں کے مخصوص بیچز (batches) واپس منگوانے کا حکم دیا ہے کیونکہ ان میں صحت کے لیے نقصان دہ اور خطرناک اجزاء پائے گئے ہیں۔

7 جولائی کو، ایکس پر ایک اکاؤنٹ نے ایک پوسٹ شیئر کی جس میں دعویٰ کیا گیا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے خبردار کیا ہے کہ ملک میں فروخت ہونے والی بعض بیوٹی کریمیں گردوں اور دیگر اعضاء کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔

پوسٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ ریگولیٹر نے مارکیٹ سے ان کریموں کے مخصوص بیچز فوری طور پر واپس منگوانے کا حکم دیا ہے۔ اس آرٹیکل کے لکھے جانے تک اس پوسٹ کو 2 ہزار500 سے زائد بار دیکھا جبکہ اسے 43 مرتبہ لائک اور 12 دفعہ ری پوسٹ کیا گیا۔

نجی میڈیا فیکٹ چیک نے ڈائریکٹوریٹ آف ڈرگز کنٹرول پنجاب (DDCP) کے ڈائریکٹر جنرل محمد سہیل سے رابطہ کیا، جنہوں نے تصدیق کی کہ رنگ گورا کرنے والی تین کریموں کے مخصوص بیچز کے خلاف ریگولیٹری کارروائی کی گئی ہے، انہوں نے 17 جون اور 22 جون کو جاری کیے گئے تین کلاس-ون پرامپٹ الرٹس (فوری الرٹس) کی کاپیاں بھی شیئر کیں۔

ان الرٹس سے معلوم ہوتا ہے کہ ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری پنجاب کے لیب ٹیسٹ میں گولڈن پرل بیوٹی کریم، فائزہ بیوٹی کریم اور جھلک بیوٹی کریم کے مخصوص بیچز میں امونیٹڈ مرکری (پارہ) پایا گیا ہے، جو کہ کاسمیٹک مصنوعات میں ایک ممنوعہ مادہ ہے۔

سرکاری نوٹسز میں، بشمول گولڈن پرل بیوٹی کریم کے لیے جاری کردہ نوٹس، مینوفیکچررز (تیار کنندگان) کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سپلائی چین کے تمام مراحل سے متاثرہ بیچز کو فوری طور پر واپس منگوائیں۔

ڈائریکٹوریٹ آف ڈرگز کنٹرول پنجاب نے اپنے آفیشل فیس بک پیج پر بھی یہ پرامپٹ الرٹس شائع کیے ہیں، جن میں ریٹیلرز، ہول سیلرز اور ڈسٹری بیوٹرز کو متاثرہ بیچز کی فروخت اور تقسیم فوری طور پر روکنے کی ہدایت کی گئی ہے، یہ نوٹسز یہاں، یہاں اور یہاں پڑھے جا سکتے ہیں۔

جیو فیکٹ چیک نے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کی جاری کردہ گائیڈ لائنز کا بھی جائزہ لیا، جس میں خبردار کیا گیا ہے کہ پارہ (مرکری) ملی رنگ گورا کرنے والی مصنوعات صحت کے لیے سنگین خطرات کا باعث بنتی ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق، ماضی میں رنگ گورا کرنے والی بعض مصنوعات میں پارے کے نمکیات (مرکری سالٹس) کا استعمال کیا جاتا رہا ہے کیونکہ یہ میلانین کی پیداوار کو روکتے ہیں۔ تاہم، پارے کے اثرات سے گردوں، اعصابی نظام اور جلد کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ ”پارہ (مرکری) پر مشتمل رنگ گورا کرنے والی مصنوعات صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہیں اور کئی ممالک میں ان پر پابندی عائد کی جا چکی ہے۔“

مزید پڑھیں:ہندوکش، قراقرم اور ہمالیہ کیلئے مون سون آؤٹ لک جاری، سیلابی صورتحال کا خدشہ

پنجاب کے ڈرگ ریگولیٹر نے لیبارٹری ٹیسٹ میں ممنوعہ مادےامونیٹڈ مرکری (پارہ) کی موجودگی کا انکشاف ہونے پر گولڈن پرل، فائزہ اور جھلک بیوٹی کریموں کے مخصوص بیچز مارکیٹ سے واپس منگوانے کا حکم دیا ہے۔