اسلام آباد ( نیوز ڈیسک ) سپریم کورٹ میں آرٹیکل 63 کی تشریح کیلئےصدارتی ریفرنس پرسماعت ہوئی ، اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے اپنے دلائل میں کہا کہ کوئی رکن اسمبلی منحرف ہو کر پھر الیکشن لڑے تو آرٹیکل 62 ون ایف کا اطلاق خودبخود ہوتا ہے ۔
نجی ٹی وی کے مطابق اپنے دلائل میں اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے کہا کہ پارٹی سےانحراف کو معمول کی سیاسی سرگرمی نہیں کہا جاسکتا ، آئین میں اسمبلی کی مدت کا ذکر ہے،اراکین کی نہیں ، اسمبلی تحلیل ہوتے ہی اراکین کی رکنیت ختم ہو جاتی ہے،
ارکان اسمبلی کی رکنیت کی مدت کاتعین اسمبلی سےجڑا ہے، آرٹیکل 62 اے کامقصد تاحیات نااہلی پرہی پوراہوگا، سوال صرف یہ ہےمنحرف رکن ڈیکلریشن کےبعد الیکشن کااہل ہےیا نہیں؟، ڈیکلریشن آ جائےتومنحرف رکن پرآرٹیکل 62 ون ایف کااطلاق ہوگا،
چورچورہوتاہےکسی کواچھاچور نہیں کہا جاسکتا ۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت کے سامنے نا اہلی کی مدت کا سوال ہے ، اسمبلی رکن بننے سے کتنے عرصے کیلئے روکا جا سکتا ہے ، ایک صورت یہ ہے کہ جس مدت کیلئے منتخب ہو کر آئے اسی عرصے کی نا اہلی ہو لیکن اگر کوئی چوتھے سال میں انحراف کرتا ہے تو اس پر دوبارہ الیکشن نہیں ہوتا ، پانچ سال کیلئے منتخب ہو کر چوتھے سال میں انحراف کرنے پر آئین خاموش ہے ۔ انحراف پر تاحیات نا اہلی کی سزا ہونی چاہئے ،
اگر ایک رکن ڈی سیٹ ہو کر دوبارہ منتخب نہ ہو کر آنا چاہے تو کوئی مسئلہ نہیں لیکن اگر کوئی رکن اسمبلی منحرف ہو کر پھر الیکشن لڑے تو آرٹیکل 62 ون ایف کا اطلاق خودبخود ہوتا ہے ۔جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ کیا اختلاف کرنے کا مطلب انحراف ہے؟
، اٹارنی جنرل نے کہا کہ اختلاف تو ججز فیصلوں میں بھی کرتے ہیں، اختلاف رائے کا مطلب انحراف کرنا نہیں ہوتا۔جسٹس جمال خان نے ریمارکس دیے کہ آئین کے آرٹیکل 63 اےمیں رکنیت ختم ہونےکالفظ ہے،نااہلی کانہیں، جب نااہلی ہے ہی نہیں توبات ہی ختم ہوگئی،
کیاالیکشن کمیشن انکوائری کرےگاکہ انحراف ہوا ہے یا نہیں؟۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ آرٹیکل 63 اے میں کسی ثبوت کی ضرورت نہیں ہوتی، پارٹی سربراہ نااہلی کا ڈیکلریشن دے گا۔









