پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چودھری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ انہوں نے پرویز الہٰی کو مشورہ دیا تھا کہ عمران خان حملہ کیس کی ایف آئی آر فوجی افسر کے خلاف درج نہیں کریں۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے چودھری شجاعت نے کہا کہ وفاق، پنجاب اور تمام صوبوں کو اپنی مدت پوری کرنی چاہیے، آصف زرداری میری عیادت کیلئے آئے تھے۔
چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ آصف زرداری سے پنجاب کے معاملے پر کوئی بات نہیں ہوئی، ہو سکتا ہے مستقبل میں پرویز الہٰی سے متعلق کوئی بات ہو۔
انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم اور پرویز الہٰی کے بارے میں کوئی بات ہوئی تو بتا دوں گا، پرویز الہٰی سے سیاسی رابطہ نہیں، قومی امور پر بات ہو جاتی ہے۔
سربراہ ق لیگ نے کہا کہ میرے ذاتی خیال میں پنجاب اسمبلی توڑنے سے آئینی بحران کا خطرہ ہے، عمران سمیت تمام سیاست دانوں کو رابطہ کرنا چاہیے تاکہ کوئی ابہام پیدا نہ ہو۔
چودھری شجاعت نے کہا کہ سیاست دانوں کے رابطے سے معیشت کو نقصان سے بچایا جا سکتا ہے، عمران خان راضی ہوں تو خود وزیراعظم سے بات کروں گا۔
پرویز الہٰی کو مشورہ دیا تھا فوجی افسر کے خلاف ایف آئی آر درج نہ کریں، چودھری شجاعت








