بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

مونگ پھلی کھانے کے بعد یہ سنگین غلطی ہر گز نہ کریں

ملک میں موسم سرما آغاز ہوچکا ہے اور سرد موسم میں شہری خشک میوہ جات مہنگے ہونے کے سبب سستی مونگ پھلی بہت شوق سے کھاتے ہیں۔
مونگ پھلی کی گری کھانے کے بعد پانی نہ پینے کا تاثر ایک عام بات ہے، مگر کیا واقعی یہ عمل صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے؟ یا محض ایک بات کی حد تک محدود ہے۔
آپ نے اکثر لوگوں سے سنا ہوگا کہ مونگ پھلی کھانے کے بعد پانی پینے سے گریز کرنا چاہئے کیونکہ اس کے نتیجے کھانسی اور گلے میں خراش ہوسکتی ہے۔
اگرچہ یہ سائنسی طور پر ثابت شدہ نہیں مگر کیا واقعی ایسا ہوتا ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس حوالے سے کئی خیالات گردش کررہے ہیں جن میں سے طبی سائنس نے کسی کو بھی فی الحال ثابت نہیں کیا۔
ایک خیال یہ ہے کہ چونکہ مونگ پھلی جیسی گریاں قدرتی طور پر خشک ہوتی ہیں تو ان کے کھانے سے پیاس محسوس ہوتی ہے اور اس میں موجود تیل کی موجودگی پانی سے دور رہنے کو بہتر ثابت کرتی ہے۔
اس خیال کے مطابق زیادہ تیل والی غذائیں یا گریاں کھانے کے بعد غذائی نالی میں چربی کا اجتماع ہوسکتا ہے جو کہ گلے میں خراش اور کھانسی کا باعث بنتا ہے، ویسے یہ اب تک ثابت نہیں ہوسکا ہے۔
ایک اور خیال یہ ہے کہ مونگ پھلی کھانے سے جسم میں حرارت پیدا ہوتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اسے سردیوں میں زیادہ کھایا جاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ پانی پینا اس حرارت کو کم کرتا ہے، مگر حرارت اور ٹھنڈک کا یہ عمل بیک وقت ہونا نزلہ زکام، کھانسی اور نظام تنفس کی متعدد بیماریوں کا باعث بنتا ہے، ویسے کچھ ماہرین تو کسی بھی کھانے کے بعد پانی پینے کو اچھا عمل نہیں سمجھتے کیونکہ اس سے بدہضمی یا تیزابیت کا امکان بڑھتا ہے، اس لیے کم از کم دس سے پندرہ منٹ تک انتظار کرنا بہتر ہوتا ہے۔
اسی طرح ایک خیال یہ بھی ہے کہ مونگ پھلی کھانے کے بعد پانی پینا معدے کے مسائل کا باعث بنتا ہے خصوصاً بچوں میں، اکثر اوقات یہ مونگ پھلی سے الرجی کا نتیجہ ہوتا ہے اور اس پر پانی پینا حالات بدتر بنادیتا ہے۔
ویسے اگر مونگ پھلی کے بعد پانی پینا نقصان دہ ثابت نہیں بھی ہوا تو بھی احتیاطی تدبیر اختیار کرنا کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچاتا۔
مونگ پھلی کھانے کے فوائد
قلبِ صحت کو فروغ دیتی ہے
مونگ پھلی آپ کو مختلف عوامل پر قابو پانے میں مدد کر سکتی ہے، یہ آپ کو دل کی بیماریوں کے خطرے سمیت کولیسٹرول کو کنٹرول کرنے میں مدد دے سکتی ہے، یہ آپ کی دل کی صحت کو بہتر بنانے میں بھی مدد کر تی ہے۔

سنگھاڑےکی شکل پر مت جائیں اس کے فوائد جان کر آپ حیران رہ جائیں گے

وزن کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے
مونگ پھلی میں چربی کی مقدار کم ہوتی ہے جس کی وجہ سے ہمیں وزن کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے مگر اس کا اعتدال میں استعمال کیا جانا چاہیے۔ یہ پروٹین اور فائبر سے بھری ہوئی ہوتی ہے جو وزن کم کرنے میں بھی مدد کرتی ہے۔
پروٹین کا بہترین ذریعہ
100 گرام مونگ پھلی میں تقریباََ 25 سے 25.8 گرام پروٹین ہوتا ہے۔ پروٹین انسانی جسم کے لیے ضروری ہے، مونگ پھلی کو محدود مقدار میں کھانے سے آپ کو پروٹین ملے گا، مونگ پھلی کا مکھن بھی پروٹین کا ایک معروف ذریعہ ہے۔
بلڈ شوگر لیول کو کنٹرول کرتی ہے
مونگ پھلی ایک کم گلیسیمک خوراک ہے جو اسے ذیابیطس کے مریضوں کے لیے اچھا بناتی ہے۔ گلیسیمیک انڈیکس بلڈ شوگر لیول پر کھانے کے اثرات کو بیان کرتا ہے۔ ذیابیطس کے مریض اپنی ذیابیطس کی خوراک میں مونگ پھلی کو محدود مقدار میں شامل کر سکتے ہیں۔ غذا میں سادہ تبدیلیاں آپ کو بلڈ شوگر لیول کو مؤثر طریقے سے کنٹرول کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔