سماجی و سیاسی محرومیوں کی بناء پر عوام اور ریاستی اداروں کے درمیان فاصلہ بڑھ رہا ہے , جہاں سے دشمن کی سازشوں کے لئے محفوظ راستہ نکلتا ہے- دردانہ صدیقی
راولپنڈی:حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان کی سیکرٹری جنرل دردانہ صدیقی نے کہا ہے کہ 16دسمبر 1971سقوط ڈھاکہ قومی تاریخ کا وہ سیاہ باب ہےجب سیاسی مفادات کی تکمیل کی خاطر نظریہ پاکستان کو لہو رنگ کیا گیا- قوموں کی تاریخ میں سقوط ڈھاکہ جیسے سانحات اس وقت رونما ہوتے ہیں , جب اپنوں کی غداری اور دشمن کی مکاری یکجا کارفرما نظر آئے-
ماضی کے اس تجربے کو کافی نہ گردانتے ہوئے ہم نے پھر سے دشمن کو اپنی صفوں میں دراڑیں ڈالنے کا موقع فراہم کیا تو معصوم نونہالان وطن کا قیمتی لہو سانحہ آرمی پبلک سکول کی صورت میں ملکی تاریخ پر بدنما داغ بن گیاِ-
جس کے عوض درجنوں ماؤں کی گودیں اپنے جگر گوشوں سے محروم ہو گئیں – ان خیالات کا اظہار انہوں نے سقوط ڈھاکہ اور سانحہ آرمی پبلک سکول کے حوالے سے اپنے خصوصی بیان میں کیا
انہوں نے کہا کہ وطن عزیز کے سیاستدانوں, تمام ریاستی اداروں کو سانحہ سقوط ڈھاکہ سے سبق حاصل کرنا چاہیے-۔اپنی صفوں میں اتحاد اور اتفاق پیدا کرنے کے لئے ملک میں بسنے والے تمام لوگوں کو انکا جائز حق دیا جائے۔نظام عدل کا قیام قوموں کو متحد رکھتا ہے جو دشمن کے عزائم اور اردوں کو خاک میں ملا دیتی ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ آج پھر وطن عزیز میں حقوق کی کشمکش , طبقاتی افراتفری , اور لاقانونیت کی انتہا ہے -سماجی و معاشی محرومیوں کا بروقت مداوا نہ کیا جائے تو عوام اور ریاستی اداروں کے درمیان فاصلہ بڑھنا شروع ہو جاتا ہے-اور وہیں سے دشمن کی سازشوں کی راہ ہموارہوتی ہے-ضرورت اس بات کی ہے کہ گوادر , بلوچستان اور دیگر محروم علاقوں کے سلگتے مسائل کو حل کر کے محرومین کے زخموں پر مرہم رکھا جائے- وطن عزیز میں اسلامی قوانین کا حقیقی نفاذ ہو تو یکساں حقوق کی فراہمی کا خواب شرمندہ تعبیر ہوگا- یہی نظریہ پاکستان کی منزل مراد ہے









