بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

باجوہ کے عمران پر بہت احسانات ہیں، ان کیخلاف باتیں بری لگیں، احسان فراموشی نہ کی جائے: پرویز الہٰی

لاہور:وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویزالٰہی نے کہاکہ عمران خان سابق آرمی چیف جنرل (ر)قمرجاوید باجوہ کے خلاف بات کررہے تھے تو مجھے بہت برا لگا، جنرل (ر) باجوہ ہمارے محسن ہیں اور محسنوں کے خلاف بات نہیں کرنی چاہیے، میں سمجھتا ہوں کہ جنرل(ر) باجوہ کے ان پر بہت احسانات ہیں اور احسان فراموشی نہ کی جائے، باجوہ کے خلاف اب اگر بات کی گئی تو سب سے پہلے میں بولوں گا اور میری ساری جماعت بولے گی، لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض نے بہت زیادتیاں کیں، ہمیں اندر کرنے کی کوشش کی وہ ہمارے خلاف تھے، میں نے جنرل (ر) باجوہ کو فیض کے بارے میں بتایا تو فیض نے کہا کہ عمران خان کا حکم ہے، عمران خان تو مونس کو ساتھ نہیں بٹھاتے تھے اس کے باوجود ہم نے عمران خان کا بھرپور ساتھ دیا، جب عمران خان نے کہا کہ اسمبلی توڑ دو تو ہم نے فوراً ہامی بھرلی، ہم عمران خان اور پی ٹی آئی کے مخالف نہیں ساتھی ہیں لیکن اپنے محسنوں کو فراموش نہیں کرسکتے،شہبازنااہل ،نوازشریف ان سے بہترہیں،مریم نوازکااحترام کرتا ہوں۔

نجی ٹی وی کودیئے گئے انٹرویومیں پرویزالٰہی نے کہاکہ ایسا نہیں کہ عمران خان نے اسمبلیاں توڑنے کا فیصلہ اچانک کیا ہے،انہوں نے تفصیلی مشاور ت کی، ہم سے بھی کافی عرصہ پہلے بات کی تھی بلکہ جب میں وزیراعلیٰ کا حلف لینے کےبعد بنی گالہ میں عمران خان سے ملا تو انہوں نے کہاکہ میں دو، تین بعد اسمبلیاں توڑدوں گا ،ہم نے کہاکہ ٹھیک ہے یہ تو آپ کی امانت ہے،مجھے عمران خان کے فیصلے پرکوئی شبہ نہیں تھاانہوں نے ہمیں چند دن قبل زمان پارک میں بلایا، ہم نے آپ کو پہلے ہی واپس دے دی ہے، اب آپ لاگو کردیں ،عمران نے چند روز قبل زمان پارک بلایا میں نے کہاکہ وزارت اعلیٰ آپ کی امانت ہے۔ انہوں نے کہاکہ بطوروزیراعلیٰ چار ماہ میں ایک دن بھی سکون سے نہیں بیٹھا،عوام کو ریلیف دینے کے لئے دن رات کام کیا،مونس الٰہی اور میرے سٹاف نے بھی بہت کام کیا۔

عمران خان کی سابق آرمی چیف جنرل (ر) باجوہ پر تنقید سے متعلق پرویز الہٰی نے کہا کہ پی ٹی آئی کو چاہیے کہ یہ یاد رکھے، احسان فراموش نہ بنیں، جنرل (ر) باجوہ کے احسان ہیں، سابق آرمی چیف ان کو اٹھا کر کہاں سے کہاں اوپر لے گئے اور ہر چیز کی، اگر باہر سے فنڈ لانے تھے تو وہ (سابق آرمی چیف) خود جاتے رہے، سعودی بادشاہ اور ولی عہد سے ملاقات کی، وہ قطر سے پیسے لے کر آئے، باجوہ کہتے ہیں کہ آپ نے ساتھ بیٹھ کر میرے خلاف بیان دلوایا،خود بات نہیں ہوئی میسج ملا ہے کہ آپ نے کیوں نہیں روکا۔انہوں نے کہا کہ عمران خان تو مونس الہٰی کو ساتھ نہیں بٹھاتے تھے، اس کے باوجود ہم نے عمران خان کا بھرپور ساتھ دیا، جب عمران خان نے کہا کہ اسمبلی توڑ دو تو ہم نے فوراً حامی بھر لی، ہم عمران خان اورپی ٹی آئی کے مخالف نہیں ساتھی ہیں لیکن اپنے محسنوں کو فراموش نہیں کر سکتے۔ اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد ملکی سیاست کو کس طرف جاتا دیکھ رہے ہیں؟

اس سوال کے جواب میں چوہدری پرویز الٰہی نے کہا کہ ابھی کل ابتدا ہوئی، یہ تمام سیاسی جماعتوں اور پی ڈی ایم کے لیے ایک بہت بڑا جھٹکا ہے، اور خاص طور پر ملک کے لیے بھی ہے، ہماری معیشت پہلے ہی ڈوبی ہوئی ہے، اس سے اسٹاک ایکسچینج بھی نیچے جائے گا۔عام آدمی جو پی ٹی آئی کے حامی ہیں، وہ بھی چاہتے تھے کہ اسمبلیاں چلیں، روزگار کے مواقع پیدا ہو رہے تھے، ہم نے چار ماہ میں دن رات کام کیا ہے، تب جا کر کچھ چیز ابھر کر سامنے آئی، اوپر سے ڈنڈا چل گیا تو پھر چل گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مینڈیٹ عمران خان نے لیا تھا، ہم تو اتحادی تھے، بقول فواد چوہدری کے ان کو اوقات میں رکھا ہے، اسی طرح شیخ رشید نے باتیں کی، اس طرح کی حرکتیں دکھ دینے والی باتیں ہیں، ہم عمران خان کی خاطر کام کررہے ہیں تو فائدہ شیخ رشید کو بھی ہے، اس طرح کی باتیں نہیں کرنا چاہیے، میں ان کے خلاف اپنے 10 بندے لگا دوں، یہ کیا سمجھتے ہیں، مذاق ہے کوئی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ 3 مہینے پہلے عمران خان کو یہ بات کہی تھی کہ جنرل (ر) باجوہ ہمارے محسن ہیں، آپ کے محسن ہیں، پی ٹی آئی کے محسن ہیں، خدا کا خوف کرو، ان کے خلاف نہ بولیں، میں نے کابینہ میں برداشت نہیں کرسکتا،دریشک کے بیٹھے باتیں کیں میں نےاس کو نکال دیااستعفیٰ دیا اسی وقت منظورکرلیا ۔

ان کا کہنا تھا کہ جب ہم یہاں ڈھائی بجے ملے تھے، اس وقت بھی میں نے کہا تھا کہ جنرل (ر) باوجوہ کے خلاف بات نہیں کرنا، انہوں نے کہا کہ بہت سفارشیں آئیں، اُس پر میں نے کہا تھا کہ پھر مان لیں نا، عمران خان نے جو زیادتی کی، مجھے ساتھ بٹھا کر جنرل (ر) باجوہ کو برا بھلا کہا، یہ بڑی زیادتی ہے۔ پرویز الہٰی نے کہا کہ پی ٹی آئی کو چاہیے کہ یہ یاد رکھے، احسان فراموش نہ بنیں، جنرل (ر) باجوہ کے احسان ہیں، سابق آرمی چیف ان کو اٹھا کر کہاں سے کہاں اوپر لے گئے، اور ہر چیز کی، اگر باہر سے فنڈ لانے تھے تو وہ (سابق آرمی چیف) خود جاتے رہے، سعودی بادشاہ اور ولی عہد سے ملاقات کی، وہ قطر سے پیسے لے کر آئے،بیلجیم میں بیٹھ کر انہوں نے آئی ایم ایف کا کام کیا، یہ اپنے آپ کو کیا سمجھتے ہیں؟ یہ سارے لوگ کیا اوپر سے آ گئے ہیں، اگر جنرل (ر) باجوہ کے خلاف کسی نے بات کی، سب سے پہلے میں بولوں گا، اس کے بعد ہماری ساری پارٹی بولے گی، انہوں نے مذاق بنا لیا ہے، بندہ اتنا احسان فراموش ہوسکتا ہے، یہ کیا ہے کہ منہ اٹھا کر جو مرضی آئے شروع ہو جاتا ہے، چیمہ اور اس کی بیگم شروع ہوجاتے ہیں، یار آپ اپنی اوقات میں رہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے کب عمران خان کی سپورٹ نہیں کی، سینیٹ کی سیٹیں کس طرح لے کر دی ہیں، اس کے بعد یہ سیدھے ہوئے اور مونس ا لٰہی کو بنایا، ہم نے عمران خان کو پریس کانفرنس سے پہلے بتا دیا تھا کہ ہمارے ساتھ طے کریں کہ ہمیں آپ نے کیا دینا ہے، اس کے لیے آپ کمیٹی بنا دیں، اس میں اسد عمر، پرویز خٹک اور سطبین خان کو شامل کریں، یہ ہم سے بات کریں گے۔

جب یہ پوچھا گیا کہ آپ اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری پر دستخط کر کے آئے ہیں، اس کے جواب میں وزیر اعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ میں ایک مہینہ پہلے سمری پر دستخط کر کے دے آیا تھا، پرویز الہٰی نے کہا کہ اللہ نے راستہ اس طرح کا پی ٹی آئی اور عمران خان کے ارد گرد کے لوگوں نے جو میرے مخالف بھی تھے، کہا اگر اس وقت چوہدری صاحب کو وزیراعلیٰ نہیں بناتے تو آپ کی پارٹی فارغ ہو جائے گی، یہیں فارغ ہو جائے گی، آپ کی اسمبلیاں توڑنے کی بات پہنچے گی ہی نہیں، آپ فارغ ہو جائیں گے اور پاکستان مسلم لیگ (ن) والے آ جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے ہی شہباز شریف کے بیٹے پاکستان آ رہے ہیں، پھر نواز شریف بھی نہا دھو کر آ جائے گا، پلیٹ لیٹس بھی پورے ہو گئے نا، یہ کم از کم 50 فیصد ۔وزیراعلیٰ پنجاب نے دعویٰ کیا کہ جنرل (ر) فیض نے ہمارے ساتھ جو زیادتیاں کیں، انہوں نے چیئرمین نیب کو بلا کر کہا کہ مجھے (پرویز الہیٰ) اور مونس کو بھی اندر کر دیں، پھر سابق آرمی چیف جنرل (ر) باجوہ کو فون کیا، انہوں نے جنرل (ر) فیض کی اچھی طرح ٹھکائی کی، وہ باز نہیں آ رہا تھا، اس نے کہا کہ پیچھے سے عمران خان کا حکم ہے،عقل عاری بندے عثمان بزدارنے آدھاکام کیایہ بندے اندرکراتاتھااس کو شرم نہیں آئی ہم نے اس کے والدکواٹھا کررکھا۔

23 دسمبر کو اسمبلیاں تحلیل کرنے سے متعلق سوال کے جواب میں چوہدری پرویز الہیٰ نے کہا کہ بات یہ ہے کہ یہ ابھی بڑی دور کی بات ہے، عدالتیں بھی ہیں، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے ایک بار یہ بات کہی تھی، آپ یہ چیزیں ادھر لے آتے ہیں، اسمبلی کیوں لے کر نہیں جاتے؟ دوبارہ دوبارہ مینڈیٹ کیا لینا ہے، پہلے نہیں لیا ہوا۔

ان سے پوچھا گیا کہ کیا آپ عمران خان کو تجویز دے رہے ہیں کہ واپس اسمبلی میں جائیں، اس پر انہوں نے کہا کہ میں انہیں کوئی تجویز نہیں دے رہا، مخالف نے اپنا دور پنجاب نہیں بلکہ سندھ کی خاطر پورا کرنا ہے، اور قومی اسمبلی سے نہیں جانا چاہتے تاکہ اگلے انتخابات سے قبل کچھ کر کے جائیں، پھر شہباز شریف اور ان کے صاحبزادے سمجھتے ہیں کہ یہ ان کا آخری چانس ہے۔

انہوں نے کہاکہ ہم نے چالیس سال سیاست میں یہ طوفان دیکھے ہیں، میں نے توہمیشہ یہ دعاکی کہ یاللہ اقتداردیناعزت والا،عمران خان کو بھی اللہ نے عزت دی ہے اقتدار نہیں ہے تب بھی لو گ انہیں چاہتے ہیں ،عمران خان کو بھی اپنے ساتھیوں کو عزت دینی چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ میں انتقامی کارروائی اور جھوٹے پرچے کے خلاف ہوں،جیساکے شریف کرتے ہیں،

ایک سوال پرانہوں نے کہاکہ شریف ،چودھری پرویزالٰہی اور مونس الٰہی ایک کشتی میں سوارنہیں ہوسکتے،ویسے سیاست میں حرف آخر نہیں ہوتا لیکن اس میں حرف آخرہے انہوں نے بہت زیادتیاں کیں۔ انہوں نے کہاکہ ہم پی ٹی آئی میں دراڑ چاہتے ہیں نہ اس کی خواہش ہے ،تاہم نناوے فیصدلوگ چاہتے تھےکہ اسمبلی نہ ٹوٹے،کام چل رہے ہیں ہم نے بھی کہاکہ فائلیں تو سمیٹیں دیں،میں نے کہاکہ بارہ دن کرلیں انہوں نے کہاکہ نہیں جمعہ کو ہی تحلیل کرنی ہیں۔پرویزالٰہی نے کہاکہ سیاست میں نوازشریف اورشہبازشریف سیاست میں پرانے ہیں ان کو کوئی روایت سیٹ کرنی چاہئے تھی،بےنظیرنے بھی ہمارے ساتھ زیادتی کیں، مجھ پر توقتل کیس بھی بنوایا،تاہم آصف زرداری نے کھلے دل کامظاہرہ کیاانہوں نے پیپلزپارٹی سے زیادہ ہمارے وزیربنادیئے تھے ،اس بندے کو کریڈٹ جاتا ہے،شہبازشریف میں یہ جذبہ موجودنہیں،شاید سیاست کے حوالے سے مریم اہل اور قابل بھی ہے،میری مخالف ہے لیکن میں ا س کا احترام کرتا ہوں کہ اس کے اندردوسروں کو ساتھ لے کرچلنے کاجذبہ موجود ہے۔

ایک سوال پر پرویزالٰہی نے کہاکہ میں نے اور چودھری شجاعت حسین نے گزشتہ جمعہ ساتھ پڑھا،اس موقع پر چودھری شجاعت نے گلہ بھی کیاکہ مونس مجھ سے نہیں ملتاجس پر میں نے کہاکہ تھوڑا ناراض ہے مل لے گا۔ انہوں نے کہاکہ شہبازشریف میں اہلیت نہیں، نوازشریف ان سے بہتر ہیں انہوں نے کام کئے ،موٹروے کا کریڈٹ ان کو چاہتااچھے کام کریڈٹ مخالف کو بھی دیناچاہئے جیسے 1122 کا کریڈٹ شہبازشریف ،وزیراعلیٰ رہاتو نوازشریف کو پنجاب کی ساری جیلوں کی سیرکراؤں گا۔

انہوں نے کہاکہ چیف الیکشن کمشنر سب کے ابابنے ہوئے ہیں، وہ کبھی کوئی چیز نکال لاتے ہیں کبھی کچھ ، توشہ خانہ کیا چیز ہے ،اگر کوئی چیز دیتاہے بھی ہے تو آپ کیا کررہےہیں۔انہوں نے کہاکہ صدر علوی ویژن والے آدمی ہیں، دھیمے دھیمے انداز میں ایسی باتیں کرتےہیں جو ملک کے مستقبل کے حوالے سے اہم ہیں ،وہ چاہتے ہیں کہ ورکنگ ریلیشن شپ ہو۔

فوری الیکشن سے متعلق عمران خان کے مطالبے کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ الیکشن تو چیف الیکشن کمشنر بھی کرانے کو تیارنہیں وہ کہتے ہیں کہ ابھی حلقہ بندی کرنی ہےآٹھ ماہ چاہئیں۔ انہوں نےکہاکہ اسٹیبلشمنٹ سے ہمارارابطہ نہیں ٹوٹا،

موجودہ اسٹیبلشمنٹ کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ ابھی اس پر کوئی تبصرہ کرناقبل ازقت ہے،اسٹیبلشمنت ،عدلیہ پر کم بات کرنی چاہئے یہ وہ ادارے ہیں جو چاہتے ہیں کہ ملک بہترہو۔ عمران خان پر حملے کی تحقیقات سے متعلق وزیراعلیٰ نے کہاکہ ہم نے جے آئی ٹی بنادی ہے،عمران خان کی مرضی کے سربراہ بنائے ان کی منظوری کے بغیر نہ اس کی تفتیش ہورہی ہے اور نہ ہی پیشرفت ہو رہی ہے،میری یہ کوشش ہے کہ لوگ پکڑے جائیں اور کیفرکردارتک پہنچیں۔