اسلام آباد (ممتازنیوز) آل پاکستان انجمن تاجراں اور ٹریڈرز ایکشن کمیٹی اسلام آباد کے صدر اجمل بلوچ اور سیکرٹری و کنونیئر ٹریڈرز کمیٹی آئی سی سی آئی خالد چودھری نے کہاہے کہ چند روز قبل وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ہر قسم کے کاروبار رات آٹھ بجے بند کرنے کا فیصلہ کیا اور کہا گیا کہ صوبوں سے مشاورت کا عمل جاری ہے اور ان کی رضا مندی کے بعد اس پر عملدآرمد کیا جائے گا، کاروباری اوقات کم کرنے کا مقصد توانائی کے اخراجات میں کمی بتایا گیا ہے ۔
تاجر شام کے چھ بجے سے رات 9 بجے تک پیک آورز میں مہنگی ترین بجلی تقریباً 85 روپے فی یونٹ کے حساب سے خریدتے ہیں جو کہ گھریلو بجلی کے مقابلہ میں کئی سو گنا زیادہ ھے اور تقریباً ستر ارب روپے کی بجلی سپلائی کرتے والی کمپنیوں کو ایڈیشنل آمدن ہوتی ہے، حکومت نے توانائی بچانے کے لئے کاروباری اوقات کم کر کے 52 ارب روپے بچانے کا منصوبہ بنایا ہے جب کہ سیلز ٹیکس اور دیگر ٹیکسوں میں بھی کمی واقع ہوگی جس سے ایف بی آر کو سالانہ تقریباً 20 ارب روپے نقصان خدشہ ہے کاروباری سرگرمیاں کم ہونے سے تاجروں کو بھی نقصان ہوگا اور کاروبار جو کہ پہلے ہی سکڑ چکے ہیں اس میں مزید کمی واقع ہوگی ۔
انہوں نے وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف سے کہا ہے کہ وہ بجلی کی بچت پر مباحثہ کرلیں ۔ ان کا موقف درست نہیں۔
انہوں نےکہا کہ تاجر تنظیموں سے نہ تو اس سلسلہ میں رابطہ کیا گیا ہے اور نہ ہی مشاورت کی گئی، تاجر برادری کو حکومتی فیصلوں پر شدید تحفظات ہیں جبکہ صوبے بھی اس فیصلہ پر عملدرآمد سے گریزاں ہیں ۔
کاروباری اوقات کم کرنے سے تاجروں اور حکومت دونوں کا نقصان ہے ، اجمل بلوچ ،خالدچودھری








