بہاولپور(ممتاز رپورٹ)ترجمان اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور نے کہا ہے کہ یونیورسٹی کی ترقی سے خائف کچھ شرپسند عناصر غیر مستند دستاویزات کو اپنے انداز میں پیش کر کے تاثردے رہے ہیں کہ یونیورسٹی لیڈر شپ کے خلاف کسی طرح کی کاروائی کا آغاز ہو گیا ہے۔اول تو ان دستاویز کی تحقیق ہونا باقی ہے کیونکہ آج کل جعلی (فیک)کاغذات بنانے کا رواج عام ہے۔ اور لوگ بہت آسانی سے سوشل میڈیا پرمحض اپنے دل کو رجھانے کے لئے من مرضی کی دستاویزات بنا کر اپلوڈکردیتے ہیں۔اس طرح انہیں وقتی خوشی تو حاصل ہو جاتی ہے لیکن ان کا جھوٹ،مکر اور فریب سب پر عیاں ہو جاتا ہے۔جھوٹ کے سرپیر نہیں ہوتے اور اِن ڈاکومنٹس کو بھی بہت بڑا کرپشن سکینڈل ظاہر کر کے نجی ٹی وی چینل پرچلایا گیا ہے جس کے خلاف یونیورسٹی لیگل ٹیم نے قانونی کارروائی کا آغاز کردیا ہے۔ متعلقہ چینل اور اس کے نمائندوں کو لیگل نوٹس بھجوا دیا گیا ہے۔ اسی طرح 8 دسمبر کوایک جعلی ویڈیو چلا کر یونیورسٹی میں امن وامان کا مسئلہ پیدا کرنے پر مقامی نمائندے اور چینل کوقانونی نوٹس بھی بھجوا دیے گئے ہیں۔ترجمان نے کہا ہے کہ اسلامیہ یونیورسٹی جیسی عظیم دانش گاہ کی حرمت پرآنچ نہیں آنے دی جائے گی اور ہزاروں اساتذہ،ملازمین اور طلباؤطالبات کے خلاف برسرِپیکار اِن ذہنی بیمارعناصر کامحاسبہ کیا جائے گا۔
وی سی اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور پر کرپشن کے الزامات،نجی ٹی وی چینل کے خلاف کارروائی کا آٖغاز








