اسلام آباد ( ملک نجیب ) وفاقی دارالحکومت کی ضلعی کچہری میں سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس میں فوجداری کارروائی کے متعلق کیس کی سماعت کرنے والی عدالت کو جوڈیشل کمپلیکس منتقل کر دیا گیا ، عمران خان کی پیشی کے موقع پر سکیورٹی انتظامات کے لئے 7 سو پولیس اہلکاروں سمیت رینجرز اہلکاروں کی تعیناتی کی گئی ہے ۔ دو ایس ایس پیز ، تین ایس پیز اور 6 ڈی ایس پیز تعینات کئے گئے ہیں ، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی عدالت کی جوڈیشل کمپلیکس میں منتقل کی گئی ہے جہاں پر عدالت نمبر ایک میں کیس کی سماعت ہو گی ، آئی جی اسلام آباد نے رات گئے جوڈیشل کمپلیکس کا دورہ کیا اور سکیورٹی انتظامات کا جائزہ بھی لیا علاوہ ازیں ڈی آئی جی سکیورٹی ، ایس ایس پی آپریشنز ، ایس ایس پی ٹریفک بھی سکیورٹی انتظامات کو دیکھیں گے ۔ جوڈیشل کمپلیکس کے اطراف راستوں کو خار دار تاروں سے سیل کر دیا گیا ہے ، جوڈیشل کمپلیکس کے اطراف رات گئے سرچ آپریشن بھی کیا گیا جبکہ بم ڈسپوزل سکوارڈ سے جوڈیشل کمپلیکس کی عمارت کو کلیئر کروایا گیا ہے ۔ ججز گیٹ سے عمران خان کو جوڈیشل کمپلیکس میں داخل کیا جائے گا جہاں پر کارکنان کو روکنے کے لئے مکمل حکمت عملی اختیار کی جائے گی ۔ محدود تعداد کو جوڈیشل کمپلیکس کے اندر رسائی دی جائے گی ۔ چیف کمشنر آفس کی جانب سے عدالت کی منتقلی کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے ۔ واضح رہے کہ عمران خان متعدد مرتبہ ایف ایٹ کچہری میں حملے کے متعلق بیان دے چکے ہیں جس پر گزشتہ روز عدالت کو جوڈیشل کمپلیکس میں منتقل کرنے کی استدعا کی گئی تھی جبکہ عمران خان کے چیف آف سٹاف شبلی فراز نے آئی جی اسلام آباد اور سی پی راولپنڈی سے ملاقات کے دوران عدالت جوڈیشل کمپلیکس منتقل کرنے کی درخواست کی تھی ، کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے پولیس کی اضافی نفری کو ہائی الرٹ رکھا گیا ہے ۔
عمران خان کے خلا ف توشہ خانہ کیس کی سماعت کرنے والی عدالت جوڈیشل کمپلیکس منتقل








