اسلام آباد(نیوز ڈیسک) قبل از وقت عام انتخابات کا مطالبہ کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے عوام کو متحرک کرنے کے لیے جلسوں اور کنونشن کے انعقاد کا فیصلہ کیا ہے۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پشاور اور کراچی میں جلسوں کے ایک ہفتے بعد لاہور میں منعقد ہونے والے جلسے میں ’سرپرائز‘ کا اعلان بھی کیا جائے گا۔
پارٹی نے پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کے اجلاس کے بائیکاٹ کا فیصلہ بھی کیا ہے، توقع ہے کہ مذکورہ اجلاس میں پی ٹی آئی حکومت کو ہٹانے کی سازش سے متعلق خط پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے معاملے پر انکوائری کمیشن تشکیل دینے کا مطالبہ کیا جائے گا۔
سابق وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت اجلاس میں پارٹی کے تمام صوبائی صدور، سیکریٹری جنرل اسد عمر، وائس چیئرمین محمود قریشی، فواد چوہدری،پرویز خٹک سمیت دیگر رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔
اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں پی ٹی آئی رہنما ڈاکٹر فرخ حبیب کا کہنا تھا کہ عمران خان بدھ کو پشاور رینگ روڈ پر ہونے والے جلسے سے خطاب کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ ’ 16 اپریل کو مزارِ قائد کراچی سے ایک اور ریلی کا انعقاد کیا جائے گا جبکہ اس کے بعد 23 مارچ کو مینارِ پاکستان لاہور میں جلسہ کیا جائےگا‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم اس بات پر زور دیں گے کہ امپورٹڈ حکومت ناقابل قبول ہے جبکہ لاہور میں ہونے والے جلسے میں سرپرائز اقدام کا اعلان بھی کیا جائے گا۔
ہم اس بار اتوار سے زیادہ بڑا اقدام اٹھانے والے ہیں، خیال رہے اتوار کو ڈپٹی اسپیکر نے تحریک عدم اعتماد مسترد کرنے کی رولنگ دی تھی۔
بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم اسمبلی سے پہلے ہی مستعفی ہوچکے ہیں، اب قوم کے پاس اپنے نمائندے منتخب کرنے کا موقع حاصل کرنا چاہیے۔
فرخ حبیب کا کہنا تھا کہ جلد ہی انصاف لائر فورم، خواتین اور جوانوں کے وینگ کے کنونشن کا انعقاد کیا جائے گا۔
اس موقع پر انہوں نے پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا کارکنان کے خلاف کاررروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا ہمیشہ ملک مخالف بد نیتی پر مبنی پروپیگنڈا کے خلاف کھڑا ہوا ہے اور انہوں نے اداروں کا دفاع کیا ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف کا نام لیے بغیر سابق وزیر کا کہنا تھا کہ اب کہہ رہے ہیں کہ پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کا اجلاس ان کیمرا کروایا جائے، اس اجلاس میں ’دھمکی آمیز خط‘ سے متعلق بریفنگ دی جائے گی، کو پی ٹی آئی کی حکومت کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے ایک مبینہ سازش ہے۔
انہوں نے کہاکہ میں یہ ذکر کرنا چاہتا ہوں کہ ’کرائم منسٹر‘ شہباز شریف اور شاہد خاقان عباسی نے پہلے مطالبہ کیا تھا کہ خط پارلیمنٹ پیش کرتے ہوئے اس پر تبادلہ خیال کیا جائے جس کے بعد انہیں پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کے لیے بلایا گیا، لیکن وہ نہیں آئے۔
بات جاری رکھتے ہوئےسابق وزیر کا کہنا تھا کہ سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے بھی شہباز شریف کو مراسلہ پڑھنے کے لیے مدعو کیا لیکن انہوں نے آنے کی زحمت نہیں کی کیونکہ وہ خود اس سازش کا حصہ ہے، اور خط کے مواد سے آگاہ ہیں۔
پی ٹی آئی کے پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے فرخ حبیب نے مطالبہ کیا کہ سپریم کو ایسی انکوائری کمیٹی تشکیل دے جس کے اراکین پر کوئی انگلی نہ اٹھا سکے اور مستقبل میں غیر ملکی سازشوں کو ختم کیا جاسکے۔









