اسلام آباد(شوبز ڈیسک)معروف ڈائریکٹر , پروڈیوسر و ڈولفن کمیونیکیشن کی سی ای او عاصمہ اسماعیل بٹ کے زیر انتظام اپنے لوگوں کے حقوق کے لئیے ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کے جرم پر اس وقت کے بادشاہ کے ہاتھوں سولی پر چڑھ کر جان کا نزرانہ پیش کرنے والے پنجاب کے تاریخی کردار ” دلا بھٹی” کی زندگی پر مشتمل پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس اسلام آباد کے آڈیٹوریم میں اسٹیج ڈرامہ پیش کیا گیا۔جس کی ڈائریکٹر عاصمہ اسماعیل بٹ تھیں, جب کہ سلیمان سنی نے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے امور سر انجام دیے۔ ڈرامہ کے لکھاری ارشد چہال تھے جب کہ آل پاکستان چائینیز اوورسیز یوتھ فیڈریشن نے اس ڈرامہ کو سپانسر کیا۔
ڈرامہ میں افضال لطیفی نے بزرگ صوفی شاعر شاہ حسین , کلیم خان نے دلا بھٹی, جھلک علی نے دلا بھٹی کی منگیتر نوری ,سپنا شاہ نے دلا بھٹی کی والدہ, ارشد خان نے دلا بھٹی کے دوست , ممتاز خان نے شہنشاہ اکبر, شبیر شاہ نے مرزا نظام الدین , علی زیب نے تاجر مرزا کوکب کا کردار باخوبی ادا کیا۔
بعد ازاں دلا بھٹی کے تاریخی کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے عاصمہ اسماعیل بٹ کا کہنا تھا کہ دلا بھٹی پنجاب کا شیر دل جواں تھا, جس کے والد کو اس دور کے اکبر بادشاہ نے لگان دینے سے انکار کرنے پر ظلم کا نشانہ بنایا اور اس کے جسم کی کھال اتار کر اس میں بھوسہ بھر کر شاہی قلعہ میں لٹکا دیا گیا, جب اس بات کا علم دلا بھٹی کو ہوتا ہے تو اپنے علاقہ کے لوگوں پر ہونے والے ظلم و جبر کے خلاف آواز حق بلند کرتا ہے اور بادشاہ کے سپاہیوں سے لگان کی رقم لوٹ کر واپس محنتی و غریب کسانوں میں تقسیم کردیتا ہے , جس پر اس وقت کا اکبر بادشاہ دلا بھٹی کو گرفتار کر کے سولی پر چڑھا دیتا ہے۔
عاصمہ اسماعیل بٹ کاکہنا تھا کہ موجودہ صورت حال کو مد نظر رکھتے ہوئے میں نے تاریخی کردار دلا بھٹی پر ڈرامہ پیش کرنے کا فیصلہ کیا, اس کا مقصد قومی ہیروز کو خراج تحسین پیش کرنا اور پاک افواج کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنا ہے, تاکہ ہماری نوجوان نسل اپنے قومی ہیروز کی قربانیوں سے روشناس ہوسکے, اور دور حاضر میں پاک فوج کے خلاف ہونے والی سازشوں کو پہچان سکے,کہ کس طرح ہمارے فوجی جوان ملک دشمن عناصر کے خلاف سیسہ پلائی دیوار کی مانند کھڑے کر اپنے ملک وقوم کی حفاظت کرتے ہیں , لہذا ان کی قدر کریں۔









