اسلام آباد(طارق محمود سمیر)آڈیو لیکس کمیشن کا معاملہ ایک اورنیا رخ اختیار کر گیا ، حکومت نے کمیشن کی کارروائی روکنے کیلئے قائم پانچ رکنی بنچ پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے بنچ کے سربراہ چیف جسٹس عمر عطابندیال، جسٹس منیب اختر اور اعجاز الاحسن کو بنچ سے الگ کرنے کا مطالبہ کردیا ۔حکومت نے گزشتہ دنوں سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی تین رکنی جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا تھا جس میں بلوچستان اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس صاحبان کو شامل کیا گیا تھا ، کمیشن نے آڈیوکیس کا تمام ریکارڈ طلب کر کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی ساس،سابق چیف جسٹس کی ثاقب نثار ، ان کے بیٹے نجم ثاقب، خواجہ طارق رحیم ،ان کی اہلیہ اور سینئرصحافی عبدالقیوم صدیقی کو بیان ریکارڈ کرانے کیلئے طلب کیا تھا کہ اسی اثناء میںکمیشن کے قیام کو تحریک انصاف کے وکیل شعیب شاہین نے چیلنج کردیا اور چیف جسٹس کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ نے کمیشن کوکام کرنے سے روک دیا، جب اس پر تنقید ہوئی تو چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ ہم نے کمیشن کوکالعدم قرار نہیں دیا غلط تاثر دیا گیا ،کارروائی کو روکا ہے ،حکومت نے اپنی درخواست میں یہ مطالبہ کیا ہے کہ آڈیو لیکس کے معاملے پر نیا بنچ تشکیل دیا جائے جس میں جسٹس عمر عطا بندیال ، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر کو شامل نہیںکیا جاناچاہیے کیونکہ آڈیو لیکس میں چیف جسٹس کی ساس اور جسٹس منیب اختر کا ذکر آیا ہے جبکہ جسٹس اعجاز الاحسن پر بھی حکومت کے وکلاء اس لئے عدم اعتماد کا اظہارکرتے ہیںکہ وہ پانامہ کیس میں مانیٹرنگ جج رہ چکے ہیں۔ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو بھی ایک زمانے میں اپنے بیٹے ارسلان سے بحریہ ٹائون کے مالک ملک ریاض سے کروڑوں روپے کے فوائدحاصل کرنے اوران کے خرچ پر غیر ملکی دورے کرنے کے الزامات کا سامنا تھا تو سابق چیف جسٹس نے اس وقت اپنی سربراہی میںکوئی کمیشن تشکیل نہیں دیا بلکہ خودکو تحقیقاتی عمل سے الگ رکھا اور سابق آئی جی پولیس شعیب سڈل کی سربراہی میں ایک کمیشن تشکیل دیا تھا جس نے اپنی رپورٹ میں ارسلان افتخار کو بے گناہ قرار دے دیا تھا، چیف جسٹس کو بھی چاہیے تھا کہ آڈیو جوڈیشل کمیشن کے معاملے پرکوئی بھی بنچ تشکیل دیتے تو اس میں نہ خود شامل ہوتے اور نہ ہی جسٹس منیب اخترکو شامل کیا جانا چاہیے تھا اور اگرکوئی دوسرا بینچ حکم امتناعی جاری کرتا توکسی کو تنقیدکرنے کا موقع نہ ملتا،دیکھتے ہیں آئندہ چند روز میں یہ معاملہ کیا رخ اختیار کرے گا ۔علاوہ ازیں نیب نے القادر ٹرسٹ کیس کی تحقیقات کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے عمران خان کابینہ کے سابق وزراء کے بیانات لینے شروع کردیے ، سابق وزیر اطلاعات فواد چودھری کا بیان ہو چکا ہے جبکہ سابق وزیرداخلہ شیخ رشید نیب کے بار بار نوٹس جاری کرنے کے باوجود ذاتی حیثیت میں پیش نہیں ہوئے بلکہ اپنے وکیل کے ذریعے تحریری جواب جمع کرا کے یہ موقف پیش کیا کہ جب کابینہ کے اجلاس میں برطانیہ سے واپس آنے والے 190ملین پائونڈ کا معاملہ زیر غور آیا تو میں کابینہ کے اجلاس سے اٹھ کر جا چکا تھا اور ویسے بھی میرے اس وقت کے مشیر احتساب وداخلہ شہزاد اکبر سے شدید اختلافات تھے اور ہماری آپس میں بول چال بند تھی ،شیخ رشید احمدکی آدھی بات درست معلوم ہوتی ہے کیونکہ وہ نازک معاملات کابینہ میں جب بھی آتے تھے پہلو بچا کر پتلی گلی سے نکل جاتے تھے اور ہو سکتا ہے انہیں اس معاملے کی نزاکت کا اندازہ ہو تو وہ کابینہ کے اجلاس سے چلے گئے ہوں، اس بات کا توکیبنٹ ڈویژن کے ریکارڈ سے پتہ چلایا جاسکتا ہے کہ وہ کتنا سچ اور کتنا جھوٹ بول رہے ہیں تاہم ان کے شہزاد اکبر سے اختلافات تھے کیونکہ شہزاد اکبر وزارت کے بہت سے معاملات میں مداخلت کرتے تھے اور شہزاد اکبرکو عمران خان کی مکمل آشیرباد حاصل تھی ۔علاوہ ازیں سابق وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی انوشہ رحمان کا مسلم لیگ ن لاہورکے سیکرٹریٹ میں داخلہ بند کردیا ہے،انوشہ رحمان ن لیگ کے دور حکومت میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وفاقی وزیر رہی ہیں اور 2018کے انتخابات میں انہیں خواتین کی مخصوص نشستوں پر ٹکٹ جاری نہیںکیا گیا تھا کیونکہ ان پر جو الزامات تھے وہ بڑے سنجیدہ نوعیت کے تھے اور ان کی غلطی کی وجہ سے ن لیگ کو بہت نقصان اٹھانا پڑا اور ایک وفاقی وزیر کو وزارت سے استعفیٰ دینا پڑا تھا۔ انوشہ رحمان چار سال تک سیاسی منظر سے غائب رہیں تاہم چند ماہ قبل وہ لندن میں میاں نوازشریف کے اجلاسوں کے دوران سوشل میڈیا پر نظر آئیں،پھر انہیں مسلم لیگ(ن) سیکرٹریٹ میں ایک ذمہ داری سونپی گئی تاہم ن لیگ کی اہم شخصیت کی قریبی رشتہ دار نے ان کاسیکرٹریٹ میں داخلہ بندکردیا ۔
آڈیو لیکس‘فل بنچ پر اعتراض حکومت کاجوابی وار ،جسٹس فائزعیسیٰ کمیشن کوکام سے روکنے پربھی حکومت نالاں۔تجزیہ








