اسلام آباد(ممتازنیوز)صدر اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری احسن ظفر بختاوری نے کہا ہے کہ زرعی شعبہ پاکستان برآمدات بڑھانے اور درآمدات کو کم کرنے میں انتہائی کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے،گزشتہ ایک سال میں اٹھائے گئے حکومتی اقدامات کی بدولت تجارتی خسارہ 17ارب ڈالر سے کم ہو کر 3ارب ڈالر تک آ گیا ہے،خسارے کے مکمل خاتمے کیلئے فروٹس،ویجیٹبل سمیت دیگر زرعی اجناس کی ایکسپورٹ کو بڑھانے پر توجہ دی جانی چاہیے، زرعی شعبے کی استعداد کو بڑھانے کیلئے ریسرچ کا فروغ ضروری ہے۔پاکستان کے کینیو اور آم پوری دنیا میں شہرت رکھتے ہیں مگر حالیہ عرصے میں اس کی ایکسپورٹ میں کمی آئی ہے،حکومت پاکستانی پروڈکٹس کو دنیا کی نئی منڈیوں تک پہنچانے کیلئے سفارتخانوں کو متحرک کرے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز اسلام آباد چیمبر آف کامرس کی ایگرو کمیٹی کے ممبران سے گفتگو کرتے ہوئے کیا جنہوں نے کنونیئر کمیٹی چوہدری سہیل کی سربراہی میں ان سے ملاقات کی۔صدر اسلام آباد چیمبر نے کہا کہ زرعی ملک ہونے کے ناطے زراعت پاکستانی معیشت کیلئے لائف لائن کی حیثیت رکھتی ہے۔پاکستان نے سیلاب کی تباہی کے باوجود رواں سال 27.5ملین ٹن گندم کی ریکارڈ پیداوار حاصل کی،اسی طرح 88.7ملین ٹن گنے کے ساتھ پاکستان دنیا بھر میں پانچویں،9.3ملین ٹن چاول کے ساتھ 10ویں،10ملین ٹن مکئی کے ساتھ 20ویں،2.3ملین ٹن آم کے ساتھ 5ویں اور 2.1ملین ٹن پیاز کی پیداوار کے ساتھ چھٹے نمبر پر ہے۔پاکستان کو اپنی زرعی مصنوعات کو روایتی کے ساتھ ساتھ غیر روایتی منڈیوں تک لے جانے کیلئے اقدامات اٹھانے چاہئیں،سینٹرل ایشین ممالک پر توجہ مرکوز کی جانی چاہیے۔زراعت کے شعبے کے لیے حکومت نے جو وزیر اعظم کسان پیکیج دیا تھا اس کے نتائج اس سال ہمیں گندم کی ریکارڈ پیداوار کی صورت میں نظر آئے ہیں،حکومت کو اس پیکیج میں نہ صرف توسیع کرنی چاہیے بلکہ مراعات میں بھی اضافہ کیا جانا چاہیے،انہوں نے کہا کہ ملک کی دیگر صنعتوں کی طرح فروٹ اینڈ ویجیٹبل انڈسٹری کو بلند پیداواری لاگت کی وجہ سے مسائل کا سامنا ہے۔پاکستان میں فروٹس کے باغات بہت پرانے ہو چکے ہیں جس سے ایک تو پیداوار پر فرق پڑا ہے دوسرا کوالٹی میں گراوٹ کی وجہ سے ایکسپورٹ میں مسائل سامنے آتے ہیں، پاکستان کی زرعی ایکسپورٹس میں آم اور کینیو کا بڑا حصہ ہے مگر اس سال آم کی ایکسپورٹ 20فیصد کم جبکہ کینیو کی ایکسپورٹ 220ملین ڈالر سے کم ہوکر 110ملین ڈالر پر آچکی ہے جو برآمدات کے فروغ کی حکومتی پالیسی کیلئے بڑا دھچکا ہے۔حکومت زرعی شعبے میں ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کو فروغ دے،اس حوالے سے بجٹ میں رقم مختص کی جانی چاہیے۔کولڈ سٹوریج پاکستان کے فروٹس اور ویجیٹبل سیکٹر کیلئے بڑا مسئلہ ہے۔کولڈ سٹوریج انڈسٹری کیلئے بجلی کی قیمتوں کامستقبل بنیادوں پر تعین کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ اگر چہ وفاقی بجٹ پالیمنٹ میں پیش کیا جا چکا ہے مگر منظوری سے قبل حکومت زرعی شعبے کی پیدارار اور ایکسپورٹ بڑھانے کیلئے ہر ممکن حد تک مراعات کا اعلان کرے۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کنوینئر ایگرو کمیٹی چوہدری سہیل نے کہا کہ ہم اسلام آباد چیمبر کے پلیٹ فارم سے اس ریجن سے فروٹس اور ویجیٹیبل کی ایکسپورٹ بڑھانے کیلئے اقدامات کرنا چاہتے ہیں۔حکومت مقامی اور بین القوامی سطح پر زرعی شعبے کی نمائشوں کو یقینی بنائے۔انہوں نے کہا کہ اس شعبے کو کولڈ سوٹریج کی شدید کمی کا سامنا ہے،پاکستانی زرعی اجناس کی سٹوریج کیلئے تمام ایئرپورٹس پر کولڈ سٹوریچ ویئر ہاؤسز بنائے جائیں۔ ملاقات میں چوہدری بشیر،نصیب اللہ خان،بابر چوہدری،خالد چوہدری سمیت دیگر بھی موجود تھے۔
زرعی شعبہ تجارتی خسارے کے خاتمے کیلئے اہم،حکومت برآمدات پر توجہ دے،احسن بختاوری








