اگر اسکرین پر ایک سیاہ سیب نظر آئے جس کے دائیں جانب کے حصے میں چبانے کا نشان ہو تو ذہن میں فوری طور پر ایپل کمپنی کا خیال آتا ہے۔
کھایا ہوا سیب ایپل کا لوگو (logo) ہے مگر ایسا لگتا ہے کہ یہ کمپنی اب حقیقی پھل کی تصاویر کو بھی کنٹرول کرنا چاہتی ہے۔
جی ہاں واقعی سوئٹزر لینڈ میں ایک ایسا کیس چل رہا ہے۔
سوئٹزر لینڈ کی فروٹ یونین سوئس کے مطابق ایپل کمپنی نہ صرف اپنے لوگو کے ٹریڈ مارک بلکہ حقیقی سیبوں کی ہر طرح کی شکل کی تصاویر کے خصوصی حقوق بھی حاصل کرنا چاہتی ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق ایپل کی جانب سے 6 سال سے فروٹ یونین سوئس سے قانونی جنگ چل رہی ہے۔
فروٹ یونین سوئس 100 سال سے زائد عرصے سے اس یورپی ملک میں سیب کاشت کرنے والے کاشتکاروں کے مفادات کے تحفظ کے لیے کام کر رہی ہے۔
اس کے ڈائریکٹر Jimmy Mariethoz نے بتایا کہ طویل عرصے سے ہم ایک سرخ سیب کے لوگو کو استعمال کر رہے ہیں جس پر سفید کراس بنا ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ‘ہمیں اس معاملے کو سمجھنے میں مشکلات کا سامنا ہے، کیونکہ ایسا نہیں لگتا کہ وہ اپنے کھائے ہوئے سیب کا تحفظ کرنا چاہتے ہیں، ان کا مقصد تو حقیقی سیب کی تصاویر کے حقوق حاصل کرنا لگتا ہے، جو کہ ہمارے خیال میں دنیا بھر میں ہر ایک مفت استعمال کر سکتا ہے’۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایپل کی جانب سے سوئٹزر لینڈ میں سیب کے ٹریڈ مارک کے لیے 2017 سے کوششیں کی جا رہی ہیں اور دیگر ممالک میں بھی اسی طرح کی درخواستیں جمع کرائی گئی ہیں۔
سوئس انسٹیٹیوٹ آف Intellectual Property (آئی پی آئی) میں ایپل کی جانب سے سیب کی ایک قسم گرینی اسمتھ کی بلیک اینڈ وائٹ تصاویر کے رائٹس حاصل کرنے کی درخواست جمع کرائی گئی تھی۔
سوئس انسٹیٹیوٹ کی جانب سے 2022 میں درخواست کو جزوی طور پر قبول کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ کمپنی کو مخصوص شعبوں میں تصویری حقوق حاصل ہو ں گے۔
اب ایپل کی جانب سے مکمل حقوق کے حصول کے لیے ایک اپیل دائر کی گئی ہے جس کی تفصیلات تو ابھی واضح نہیں مگر یہ آڈیو ویژول فوٹیج کے استعمال کے حوالے سے ہے۔
اگر ایپل کو کامیابی حاصل ہوتی ہے تو ٹیکنالوجی کی دنیا سے ہٹ کر بھی سیب کی تصاویر کے استعمال پر اثرات مرتب ہوں گے۔
Jimmy Mariethoz کے مطابق ‘ہمیں خدشہ ہے کہ کمپنی کی کامیابی پر اگر ہم کسی سیب کی تصویر استعمال کریں گے تو قانونی کارروائی کا سامنا ہو سکتا ہے’۔









