پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شرمیلا فاروقی نے کہا ہے کہ میں کوئی ڈان ہوں کہ ساری پولیس میری منگنی کی تقریب کے لیے سیکیورٹی پر مامور تھی۔
یہ بات انہوں نے اپنی منگنی کی تقریب کے حوالے سے اٹھائے جانے والے سوال کے جواب میں کہی ہے۔
شرمیلا فاروقی نے حال ہی میں ایک پوڈ کاسٹ میں بطور مہمان شرکت کی جہاں اُنہوں نے اپنے سیاسی کیریئر اور نجی زندگی کے بارے میں بات کی۔
اس پوڈ کاسٹ میں ان کی منگنی کے بارے میں ایک سوال پوچھا گیا کہ کہا یہ جاتا ہے کہ آپ کی منگنی ہوئی تو پورا کراچی سجا ہوا تھا اور پورے سندھ کی پولیس صرف آپ کی منگنی کی تقریب کی سیکیورٹی پر مامور تھی تو اس دوران شہر میں ایک خود کُش بم دھماکا ہو گیا تھا؟
اُنہوں نے اس سوال کے جواب میں کہا کہ میری منگنی کی تقریب تو ڈسٹرکٹ ساؤتھ میں تھی اور جہاں خود کُش بم دھماکا ہوا وہ جگہ تو ڈسٹرکٹ ساؤتھ میں آتی ہی نہیں ہے۔
انہوں نے بتایا کہ میری منگنی کی تقریب میں صرف 400 لوگوں کو مدعو کیا گیا تھا اور الزام یہ لگایا گیا کہ پوری کابینہ اور وزیرِ اعلیٰ سندھ بھی تقریب میں موجود تھے۔
شرمیلا فاروقی نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ تقریب میں کابینہ اور وزیرِ اعلیٰ سندھ کو تو مدعو ہی نہیں کیا گیا تھا، صرف میری فیملی اور قریبی دوست احباب شامل تھے۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ جب میری منگنی کی تقریب ڈسٹرکٹ ساؤتھ میں ہوئی تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ کسی اور ڈسٹرکٹ کی پولیس اس تقریب کی سیکیورٹی پر مامور ہو۔
پیپلز پارٹی کی رہنما شرمیلا فاروقی نے یہ بھی کہا ہے کہ خود کُش دھماکا تو اس وقت عباس ٹاؤن میں ہوا تھا، وہاں کی پولیس تو وہیں موجود تھی۔









