پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما حماد اظہر نے کہا ہے کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ یہ معاہدہ الیکشن تک تو پاکستان کی معیشت کو دیوالیہ ہونے سے روک سکتا ہے لیکن معاشی چیلنجز کم نہیں ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام ایک سال کیلئے منجمد کرکے پی ڈی ایم نے معیشت کو بے پناہ نقصان پہنچایا۔
حماد اظہر کا کہنا تھا کہ اب بھی پروگرام کی ایک آخری رقم ملنے سے معیشت کو چند ہفتوں کا وقت ملا ہے۔
حماد اظہر کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ 9 ماہ کا اسٹینڈ بائی معاہدہ کڑی شرائط کے ساتھ ہے ، پی ڈی ایم سے 14 ماہ میں معاملات نہیں سنبھلے ، اب اس کی قیمت عوام مزید مہنگائی کی صورت میں ادا کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ نئی منتخب حکومت کو آتے ہی آئی ایم ایف کے ساتھ پھر بیٹھنا ہوگا ۔
دوسری جانب پی ٹی آئی رہنما کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے وزیراعظم کے معاون خصوصی بلال کیانی نے کہا کہ حماد اظہر کو یہی تکلیف ہے کہ یہ معاہدہ کیوں ہوگیا اور پاکستان ڈیفالٹ سے کس طرح بچ گیا۔
انہوں نے کہا کہ آخری رقم اور چند ہفتے کا وقت ملنے کا دعویٰ کرنے سے پہلے یہ دیکھ لیتے کہ یہ معاہدہ 9 ماہ کی مدت اور 3 ارب ڈالر کا ہے جس سے ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر بڑھیں گے اور پاکستان کو وسائل کی فراہمی مزید تیز اور آسان ہوگی۔
واضح رہے کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے پاگیا ہے، عالمی مالیاتی ادارے اور پاکستان کے درمیان 3 ارب ڈالر کا یہ اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ کا معاہدہ ہے۔
اعلامیے کے مطابق آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ اسٹاف لیول معاہدے کی منظوری دے گا اور ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس جولائی کے وسط میں ہوگا۔
یہ بھی یاد رہے کہ نئے معاہدے سے قبل پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان پروگرام کی مدت گزشتہ روز ختم ہوگئی تھی۔









