مشکل سیاسی معاشی اور عالمی سفارتی ماحول میں معاہدہ پاکستان کیلئے مثبت پیش رفت ہے،صدر آئی سی سی آئی
صدر اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسری احسن ظفر بختاوری نے کہا ہے کہ انتہائی مشکل سیاسی معاشی اور عالمی سفارتی ماحول میں آئی ایم ایف معاہدہ پاکستان کیلے مثبت پیش رفت ہے۔ یہ کامیابی ا وزیراعظم شہباز شریف، وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور ان کی ٹیم کی کوششوں سے ممکن ہوئی۔یہ معاہدہ مشکلات کا شکار پاک معیشت کے لیے سود مند ثابت ہو گا۔ اب وقت آگیا ہے کہ حکومت سیاسی قیادت اور اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر ایک طویل المدتی اقتصادی پالیسی مرتب کرے تاکہ پاکستان مستقل طور پر اپنے پاؤں پر کھڑا ہو سکے۔آئی ایم ایف سے موجودہ شارٹ ٹرم معاہدہ پاکستان کے پاس پائیدار معاشی اصلاحات کا موقع ہے۔پیر کو جاری اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ حکومت نے عالمی مالیاتی ادارے کے ساتھ ایک سال کی طویل گفتگو کے بعد موجودہ معاہدہ کو ممکن بنایا ہے۔ دیگر عالمی مالیاتی اداروں اور دوست ممالک کا اعتماد حاصل کرنے کیلئے یہ معاہدہ ناگزیر تھا۔پاکستان کو اس معاہدے تک پہنچنے کیلئے مقامی سطح پر سیاسی اور معاشی صورتحال اور عالمی سطح پر مشکل سفارت کاری کا سامنا کرنا پڑا جس کا اشارہ وفاقی وزیر خزانہ نے اپنے ایک بیان میں بھی دیا تھا۔پاکستان کی بزنس کمیونٹی یہ سمجھتی ہے کہ اس معاہدے کے مارکیٹ پر بہتر اثرات مرتب ہوں گے۔آج کراچی سٹاک مارکیٹ میں ریکارڈ بہتری اور ڈالر کی قیمت میں کمی اس بات کا ثبوت ہے۔انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف سے معاہدہ پاکستان کیلئے ایک موقع ہے کہ بہتر معاشی پالیسیاں تشکیل دی جائیں اور طویل االدتی اصلاحات کا ایجنڈہ تیار کیا جائے تاکہ پاکستان مستقل طور پر قرض کے حصول کی دلدل سے نکل سکے۔انہوں نے کہا کہ انڈیا ہمارے سامنے ایک مثال ہے۔جس طرح انہوں نے 1992میں اصلاحات کیں اور آئی ایم ایف کو خیر آباد کہاہمیں بھی ایسی مشکل اصلاحات کی ضرورت ہے۔خسارے کا شکار سرکاری کنٹرول میں چلنے والے اداروں کی شفاف اور فاسٹ ٹریک نجکاری،ٹیکس نیٹ میں اضافہ،برآمدات میں اضافہ اور درآمدات میں کمی کیلئے منصوبہ بندی جیسے اقدامات اٹھانے کا یہی مناسب وقت ہے۔آئی ایم ایف سے موجودہ معاہدے کے بعد پاکستان کو فوری طور پر کچھ اقدامات اٹھانے چائیں۔ علاقائی تجارت کے فروغ پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے جس میں خصوصی طور پر ای سی او ممالک ترکیہ،ایران اور وسط ایشیائی ممالک شامل ہیں۔اس کے علاوہ افریقی ممالک،آسیان ریجن اور ڈی ایٹ ممالک سے تجارتی تعلقات بہتر بنانے اور براہ راست پروازوں کے اجراء پر خصوصی توجہ دینی ہو گی۔ریلوے،پی آئی اے،سٹیل مل اور توانائی کے شعبے کی فوری نجکاری کی جائے اور قرضوں کو ختم کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ماضی میں کئی بار عالمی اداروں کے پاس قرض کے حصول کیلئے جا چکا ہے مگر بہتر بنیادی سطح پر اصلاحات نہ ہونے کی وجہ سے کسی پروگرام کا فائدہ نہیں ہو سکا۔پاکستان موجودہ قرض کے بعد پوری دنیا میں آئی ایم ایف سے قرض لینے والا ارجنٹائن،مصر اور یوکرین کے بعد چوتھا بڑا ملک بن گیا ہے۔یہ ہمارا المیہ ہے کہ تمام تر وسائل ہونے کے باوجود پاکستان معاشی طور پر اس مقام تک نہیں پہنچ سکا جہاں ہمیں ہونا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ آبادی میں تیزی سے اضافہ،پانی کے مسائل،ماحولیاتی تبدیلیوں کے چیلنجز سے ہم تب ہی نمٹ سکتے ہیں جب ملک معاشی طور پر اپنے پاؤں پر کھڑا ہو۔پاکستان کی بزنس کمیونٹی کو اصلاحاتی پروگرام کا حصہ بنایا جائے۔ایس ایم ایز کی ترقی پر توجہ مرکوز کی جائے۔ چھوٹے بزنسز کے فروغ کیلئے پائیدار پالیسی سامنے لائی جائے۔پاکستان کی معاشی مضبوطی دفاع سمیت ہر شعبے سے منسلک ہے۔حکومت سمیت تمام سیاسی جماعتیں اور سٹیک ہولڈز یہ عہد کریں کہ آئی یم ایف کا یہ پروگرام پاکستان کیلئے آخری ہوگا۔
آئی ایم ایف معاہدہ طویل المدتی معاشی اصلاحات کیلئے ایک موقع ہے،احسن بختاوری








