فواد خان اور ان کی بیگم صدف، دونوں کی مقبولیت صرف پاکستان یا بھارت تک محدود نہیں۔ اب تو ان کی شہرت ان دونوں ملکوں کی سرحدوں سے بھی بہت آگے تک پہنچ چکی ہے۔
فواد کی بیگم صدف فیشن کی زبردست سمجھ بوجھ رکھنے کے ساتھ ساتھ کاروبار کا شعور بھی رکھتی ہیں۔
صدف اپنے بارے میں بتاتی ہیں کہ ’تیکنیکی اعتبار سے دیکھا جائے تو میں ڈیزائنر نہیں ہوں۔ میرے پاس بزنس ایڈمنسٹریشن کی ڈگری ہے۔ چنانچہ میں نے جو برانڈ متعارف کرایا ہے، میں اسے ایک برانڈ یا ڈیزائن سے زیادہ ایک کاروبار کے طور پر لیتی ہوں۔ اس سے پہلے میں کارپوریٹ سیکٹر میں آٹھ سال کام کرچکی ہوں، اس لیے کاروباری دنیا میرے لیے نئی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ میرا رجحان فیشن ہی کے میدان میں کچھ کرنے کا تھا۔ درحقیقت میں نے یہ برانڈ 2012ء میں متعارف کرایا تھا۔ لان کے تو بہت سے برانڈ مارکیٹ میں آچکے تھے، اس لیے میں نے سلک کا انتخاب کیا۔ رفتہ رفتہ مجھے تجربہ حاصل ہوتا رہا اور میں کام کو آگے بڑھاتی رہی۔ گو کہ ابھی میرا اپنا کوئی اسٹور نہیں ہے لیکن میں لاہور، کراچی اور دبئی سمیت کئی شہروں کے بڑے اسٹورز اور بوتیک کو ملبوسات دے رہی ہوں۔
جب صدف فواد سے سوال کیا گیا کہ مغربی اور مشرقی ممالک میں کن ڈیزائنرز کا کام انہیں پسند ہے؟ تو انہوں نےجواب دیا کہ ہمارے اپنے ملک میں بھی بہت اچھا اور متاثر کن کام ہورہا ہے۔ خاص طورپر مجھے فراز منان کا کام متاثر کرتا ہے۔ مغرب میں سبیا ساچی مکرجی (Sabyasachi Mukherjee) کا انداز اور ایلی صاب (Elie Saab) کا تخلیقی ذوق بہت پسند ہے۔‘‘
صدف فواد سے سوال کیا گیا کہ ایک اسٹار کی بیوی ہونے کی حیثیت سے آپ کے لیے سب سے بڑا چیلنج کیا ہے؟
انہوں نے بتایا کہ اپنے آپ کو، اور اپنی صلاحیتوں کو ثابت کرنا ایک بڑا چیلنج ہے، لوگ بعض اوقات منہ پر بھی کہہ دیتے ہیں کہ آپ تو کچھ بھی کرسکتی ہیں کیونکہ آپ ایک اسٹار کی بیوی ہیں۔ لوگ یہ نہیں دیکھتے کہ ہر اسٹار کی بیوی توکوئی نمایاں کام کرکے نہیں دکھاتی۔ آپ کو ثابت کرنا پڑتا ہے کہ آپ کی بھی کوئی شخصیت ہے، آپ کی اپنی بھی کچھ صلاحیتیں ہیں۔









