بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

صدر عارف علوی کو عہدے کا خیال نہیں تو استعفیٰ دے دیں،رانا ثنا اللہ

فیصل آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ عارف علوی کو عہدے کا خیال نہیں تو استعفیٰ دے دیں۔ اپنے ایک بیان میں رانا ثنا اللہ نے کہا کہ عارف علوی صدر بنیں، عمران نیازی کے ذاتی غلام نہ بنیں، اگر وہ آئینی ذمہ داری نہیں نبھا سکتے تو مستعفی ہوجائیں، صدر مملکت کا عہدہ آئینی منصب ہے، سیاسی نہیں، آئین پر عمل کا وقت آتے ہی صدر، گورنر اور پوری پی ٹی آئی بیمار پڑ جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے بعد لاہور ہائیکورٹ کے حکم کی مسلسل توہین کی جا رہی ہے، 21 دن سے پنجاب کسی وزیراعلیٰ اور کابینہ کے بغیر چلایا جا رہا ہے۔
فیصل آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لوگوں نے بہت زور لگایا کہ رانا ثناء اللہ کامیاب نہ ہو، عمران خان نے فیصل آباد کے دورے پر کہا رانا ثناء اللہ کو اسمبلی میں نہیں دیکھنا چاہتا، وزیر داخلہ بننے پر ملنے والی عزت عوام کے مرہون منت ہے، 2018 کے الیکشن میں نالائق اور نااہل ٹولے کو برسر اقتدار لایا گیا، نااہل ٹولے میں غرور اور تکبر بھرا ہوا تھا،عمران خان کو اقتدار میں کامیابی دلوائی گئی، انکو چاہیے تھا حکومت ملی تھی تو عوام کے کام کرتے، عمران خان امریکہ جا کر بھی محالفین کو دھمکیاں دیتا رہا، حکومت بنتے ہی پہلے دو سال منصوبوں کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے سی پیک، بجلی کے کارخانوں، موٹروے، ہسپتالوں کی بنیاد رکھی، چار سال حکومت میں رہنے کے بعد یہ نہیں بتا سکتے انہوں نے کس منصوبے کی بنیاد رکھی، انہوں نے بس مخالفین پر جھوٹے مقدمات بنائے ہیں، اسد عمر کہتا تھا ہم پٹرول 44 روپے کر دیں گے، اگر کوئی کہتا بے روزگار ہوں تو یہ کہتے ہم ایک کروڑ نوکریاں دیں گے، یہ کہتے تھے حکومت میں آکر فوراً قرضے ختم کر دیں گے، جب عمران خان اقتدار میں آیا تو مہنگائی نے عوام کا برا حال کردیا،عمران خان کے دور میں ادویات کا بہت بڑا سکینڈل آیا، وزیر صحت کو ادویات ساز کمپنی نے گورنر سندھ کے گھر میں پانچ کروڑ رشوت دی، عوام کو کہا گیا ن لیگ کی چینی کی ملز ہیں، ہمارے دور میں چینی کی قیمت 52 روپے سے اوپر نہیں گئی، انہوں نے چینی درآمد اور برآمد کرنے میں اپنے لوگوں کی دیہاڑیاں لگوائی، اس سال گندم کا قحط پڑھنے کا خدشہ ہے، کھاد بلیک ہونے کیوجہ سے کسانوں کو دھکے کھانے پڑے۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ تحریک انصاف کی گورننس بری تھی، انکا کسی چیز پر کنٹرول نہیں تھا، تحریک انصاف کہتی ہے ہمارے لوگوں کو اپوزیشن نے خریدا ہے، جو بیس بائیس لوگ عمران خان کیخلاف ہوئے یہ پچھلے دو سال سے ان سے ناراض تھے، عمران خان متکبر انسان ہے کسی سے ہاتھ نہیں ملانا چاہتا، انکے لوگ انتظار کر رہے تھے کہ کب اسٹیبلشمنٹ انکے سر سے ہاتھ اٹھاتی ہے، اتحادی جماعتیں انکا ساتھ دیں تو ٹھیک ورنہ غدار، اپوزیشن کے پاس ایک سو باسٹھ اور عمران خان کے پاس 176 ووٹ تھے، ہم نے تحریک انصاف کے کسی ناراض رکن کا ووٹ نہیں لیا، طارق بشیر چیمہ اور چودھری سالک حسین نے ہمیں ووٹ دیا۔