معروف ایرانی ریپر توماج صالحی کوایران مخالف مظاہروں میں شرکت پر 6 سال قید کی سزا سنا دی گئی۔
33 سالہ گلوکار و موسیقار کو گزشتہ سال ایران میں شروع ہونے والی احتجاجی تحریک میں شرکت کرنے پرچھ سال اور تین ماہ کے لیے جیل بھیج دیا گیا۔
وکیل روزا اعتماد انصاری کی جانب سے بتایا کیا کہ گلوکار پر کئی الزامات تھے لیکن انہیں ’محارب‘ کے الزام میں سزا سنائی گئی ہے، عام طور پر اس الزام میں پھانسی کی سزا بھی دی جاتی ہے۔ لیکن گلوکار موت کی سزا سے بچ گئے ہیں اور انہیں چھ سال اور تین ماہ کے لیے جیل بھیج دیا گیا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ گلوکار کو سزائے قید پوری کرنے کے بعد دو سال تک موسیقی سے دور رہنے کا حکم دیا گیا ہے اور اس عرصے میں وہ ملک بھی چھوڑ کر نہیں جاسکیں گے۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال توماج صالحی نے “نامناسب لباس” پہننے کے الزام میں گرفتار 22 سالہ ایرانی خاتون مہسا امینی کی پولیس حراست میں موت کے بعد خاتون کی حمایت میں ملک گیر احتجاج ،آن لائن اور اپنے گانوں کے ذریعے ایران کی حکومت پر تنقید کی تھی۔









