اسلام آباد(ممتازنیوز)وزیردفاع خواجہ محمد آصف نے کہاہے کہ چاہتاہوں کہ نوازشریف واپس آجائیں،عدلیہ کی طرف سے بھی ریلیف ملے،الیکشن 2023 میں ہی ہوں گے آگے نہیں جائیں گے ، شاہدخاقان عباسی کو ضرورٹکٹ ملے گا ، آئی ایم ایف ڈیل میں اہم کردارشہبازشریف اور آرمی چیف نے اداکیا،چاہتا،چار،پانچ سال میں ملک کو ایسے نقصانات ہوئے جن کو درست نہیں کیا جاسکتا،سیاست دانوں کو ایساانداز اپناچاہئے جس میں ملک کا نقصان نہ ہو۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہاکہ بہت سے لوگ جو ن لیگ کے نہیں ہیں، کہتے ہیں کہ نوازشریف کے ساتھ زیادتی ہوئی، ہماری کوشش اور خواہش ہے کہ نوازشریف کے ساتھ ہونے والی زیادتی کا ازالہ ہو۔میری رائے ہے کہ آئندہ وزیراعظم نوازشریف ہوں،وزیراعلیٰ پنجاب کے لئے امیدواروں کے بارے میں وقت آنے پر طے کرلیاجائے گا۔انہوں نے کہاکہ شہبازشریف نوازشریف کے بھائی ہیں اور تابعدار ہیں،نوازشریف بطور وزیراعظم اور شہبازشریف بطور وزیراعلیٰ پنجاب کامیاب رہے، میرا نہیں خیال کہ نوازشریف کے نام پر کبھی کاٹالگاہواتھا،جب قمرجاویدباجوہ کو آرمی چیف بنایاگیا تو اس وقت بھی کوئی کاٹا نہیں تھا، قمرجاویدباجوہ کے آرمی چیف بننے کے ڈیڑھ سال تک کوئی کاٹانہیں تھا،نوازشریف کو کاٹالگانے کی کوشش میں ایسے شخص کو لے آئے جس کے خلاف اب اس کے اپنے لوگ بولنے لگ گئے ہیں اور حقائق بیان کرناشروع کردیئے ہیں،آج کل تو ہم نے اس شخص کے بارے میں بات کرنا ہی چھوڑدی ہے۔انہوں نے کہاکہ نوازشریف کو اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ نے ملک سے باہر بھیجاتھا،نوازشریف کو ہٹانے اور دوسرے شخص کو لانے میں ملک کا بہت نقصان ہوا،ماضی میں بھی لوگوں نے اپنی پوزیشن سے دوسرے لوگوں کو فائدہ پہنچایا،گزشتہ ایک سال میں بھی کچھ لوگوں نے اپنی پوزیشن سے فائدہ اٹھایا۔انہوں نے کہاکہ آئی ایم ایف ڈیل میں اہم کردارشہبازشریف اور آرمی چیف نے اداکیا۔ایک سوال پر خواجہ آصف نے کہاکہ ہمارے ساتھ 2018 میں جو ہوا کیا سب کے سامنے نہیں ہے، ہمارے لوگوں نے بھی جیلیں کاٹیں لیکن حوصلے سے کھڑے رہے،احد چیمہ کو وعدہ معاف گواہ بننے کےلئے کہاگیا لیکن وہ نہیں بنااور جیل کاٹی،نوازشریف کی بیٹی کو جیل میں ان کے سامنے گرفتارکیاگیا جو کسی طور پر درست نہیں تھا،ہمیں کوئی گلہ شکوہ نہیں سیاسی قیمت تو اداکرناہوتی ہے، اچھاوقت آئے یابروقت سیاسی ورکرکی عزت تو برقرار رہنی چاہئے۔انہوں نے کہاکہ چیئرمین پی ٹی آٗئی کے بارے میں ایک جملہ استعمال کیاگیا ’’بس بہت ہوگیا‘‘ یہ بھی کہاگیاکہ 2019 یا2021 میں پی ٹی آئی اتحادی ان کے ساتھ تھے ہمارے ساتھ نہیں تھے، چیئرمین پی ٹی آئی کے ساتھ گزارہ نہیں ہوسکتا،2018 کے تجربے کی ناکامی کا ادراک ہوچکاتھااس لئے ایسی باتیں کی گئیں،چیئرمین پی ٹی آئی شاید اتنے ناراض نہیں تھے جتنے خود اسٹیبلشمنٹ والے ناراض تھے 2019 کے بعد وہ ان سے بیزارتھے،اس وقت حکومت تبدیلی کی آفر ہوئی جس سے انکارکیا ۔نوازشریف کی صحت سے متعلق وزیردفاع نے کہاکہ عمر کے ساتھ کچھ مسائل ہوتے ہیں،باقی نوازشریف کی طبیعت ٹھیک ہے۔انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی سے لوگ ان کی اپنی غلطیوں کی وجہ سے ٹوٹے، آئندہ انتخابات میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ لینے والے لوگ بھی ہوں گے، ایسے بے شمارلوگ ہیں جو پی ٹی آئی کے ساتھ ہیں اور ٹکٹ لیں گے۔انہوں نے کہاکہ 93،98،2016 میں چپقلش ایک فرد سے ہوئی تھی ادارے کے ساتھ نہیں،چار،پانچ سال میں ملک کو ایسے نقصانات ہوئے جن کو درست نہیں کیا جاسکتا،جمہوریت کا دفاع بھی کیا جاسکتا ہےاور سول ملٹری تعلقات بھی رکھے جاسکتے ہیں،سیاست دانوں کو ایساراستہ اپناناچاہئے جس سے ملک کا نقصان نہ ہو۔انہوں نے کہاکہ ن لیگ اور پی ٹی آئی کے پولیٹیکل میٹریل میں بہت فرق ہے،ہماری بھی گرفتاریاں ہوئیں کیاہم نے پریس کانفرنسیں کیں،میری اہلیہ تین سال تک عدالتوں میں جاتی رہیں کیا رونادھوناکیا، پی ٹی آئی کے جن لوگوں پر مقدمہ ہے ان کا الیکشن لڑنامشکل ہوسکتاہے تاہم جن پر مقدمہ نہیں وہ الیکشن لڑسکتے ہیں،الیکشن آرہا ہے، ووٹ کو عزت دینی ہے۔شاہدخاقان عباسی کو ضرورٹکٹ ملے گاان کایہ مطالبہ کہ نظام ٹھیک ہوناچاہئے بالکل ٹھیک ہے،نظام کو تنہاٹھک نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہاکہ الیکشن 2023 میں ہی ہوں گے آگے نہیں جائیں گے طے ہوگیاتین ماہ میں الیکشن ہوں گے،نگران وزیراعظم سینئرسیاستدان ہوسکتا ہے۔
الیکشن 2023 میں ہی ہوں گے ، شاہدخاقان عباسی کو ضرورٹکٹ ملے گا ،خواجہ آصف








