اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سپریم کورٹ نے نامزد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف دوبارہ نظرثانی واپس لینے کی درخواست منظور کرنے کی بنیاد پر نمٹا دی۔
10 اپریل کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کیو ریٹیو ریویو واپس لینے کی درخواست پر سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے چیمبر میں ہوئی تھی۔
اٹارنی جنرل منصور اعوان چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے چیمبر میں پیش ہوئے تھے اور انہوں نے درخواست واپس لینے سے متعلق وفاقی حکومت کے مؤقف سے آگاہ کیا تھا۔
اس سماعت کے دوران درخواست پر فیصلہ محفوظ کیا گیا تھا۔
اب سپریم کورٹ نے حکومت کی درخواست منظور کرلی ہے اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس فیصلے پر دوبارہ نظر ثانی کیس کا فیصلہ جاری کردیا۔
چیف جسٹس پاکستان نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف حکومت کی دوبارہ نظرثانی واپس لینے کی درخواست منظور کرلی اور کیوریٹو ریویو واپس لینے کی بنیاد پر درخواست نمٹا دی۔
خیال رہے کہ موجودہ حکومت نے جسٹس فائز عیسٰی کے خلاف کیوریٹو ریویو واپس لینے کی درخواست دی تھی۔
سپریم کورٹ کے 10 رکنی بینچ نے جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس خارج کردیا تھا، سپریم کورٹ کے 10 رکنی بینچ نے 4-6 کی بنیاد پر ریفرنس خارج کیا تھا۔
سابق حکومت نے 25 مئی 2021 کو جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف کیوریٹوریویو داخل کی تھی تاہم رجسٹرار آفس نے اعتراض لگایا تھا کہ قانون میں دوبارہ نظرثانی کی گنجائش نہیں۔
حکومتی درخواست منظور، جسٹس فائز عیسیٰ کیخلاف دائر دوبارہ نظرثانی درخواست خارج








